عدالتوں میں مار دھاڑ، فائرنگ کے بڑھتے واقعات، سکیورٹی کیلئے اہم اقدام


علی ساہی : عدالتوں میں مار دھاڑ ، فائرنگ اور قتل و غارت کے بڑھتے واقعات کے بعد پولیس نے بارہ نقاطی نئے ایس اوپیز جاری کر دیے۔ عدالتوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی عمر اور اسلحہ میں اصلاحات جبکہ پینتیس سال سے کم عمر اہلکار ہی سکیورٹی پر تعینات کیے جائیں گے۔

ایس او پیز کے مطابق تمام ڈی پی اوز ، آر پی اوز اورمتعلقہ حکام کو ارسال کئے گئے۔ پینتیس سال سے کم عمر اہلکاروں کو ہی عدالتوں کی سکیورٹی پر مامور کیا جائے گا، جن کی تعیناتی سے قبل فائرنگ پریکٹس لازم قرار دیدی گئی۔کوئیک ریسپانس فورس کے انچارج کے پاس بریٹا یا گلاک پستول کے ساتھ چونتیس راؤنڈ رکھنے لازم کر دیے گئے، جبکہ کوئیک ریسپانس فورس کے ایک سے سات اہلکاروں کی تعیناتی ضروری قرار دی گئی ہے۔تعینات اہلکاروں کی سکیورٹی کلیئرنس اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگادی گئی ہے۔ سکیورٹی آلات کی چیکنگ اور سپیشل برانچ سرچ اینڈ سویپ کی ذمہ دار ہوگی۔

ایس ایچ او سے لیکر ڈی آئی جی آپریشن تک مقررہ وقت پر سکیورٹی انتظامات کی چیکنگ کے ذمہ ہوں گے اور رپورٹ سی پی او کو کرنے کے پابند ہونگے. وکلاء کی گاڑیوں کے اسٹیکرز اور دستاویزات کو بغور جائزہ لینے کے بعد داخلے کی اجازت ہوگی۔ عدالتوں میں قتل کے حالیہ واقعات کے بعد جیل سے عدالت لانے اور لے جانے والے اہلکاروں کو راستے میں گاڑی روکنے اور کھڑی کر کے کچھ بھی کھانے پینے سے منع کر دیا گیا ہے۔