ویب ڈیسک: پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت کے خلاف محکمہ داخلہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں, جعلی ڈیلرز کی دکانوں کو سیل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں تمام اسلحہ ڈیلرز کی ویریفکیشن کا عمل جاری ہے۔پنجاب میں اب تک 511 ڈیلرز نے اپنے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں، جن میں سے 393 ڈیلرز کے لائسنسز کی مکمل تصدیق کر کے گرین سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق 90 اسلحہ ڈیلرز کے کاغذات کی اسکروٹنی جاری ہے، جن میں سے 44 کیسز کی سماعت مکمل ہو چکی جبکہ باقی 46 کی سماعت جلد مکمل کی جائے گی۔ تمام کیسز کی جانچ شفاف اور منصفانہ طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے صوبے بھر میں اسلحہ ڈیلرز کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل تیز کر دیا ہے اور غیر قانونی اسلحے کی نشاندہی و بازیابی کے لیے متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
اس کے علاوہ، محکمہ داخلہ کی ہدایت پر تمام اضلاع میں اسلحہ ڈیلرز کی باقاعدہ انسپکشن بھی جاری ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے اسلحہ لائسنسز کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں جن کے مطابق صوبے میں 10 لاکھ 12 ہزار 454 افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس موجود ہیں، جبکہ سکیورٹی کمپنیوں کے لیے 37 ہزار 918 اور مختلف اداروں کے نام پر 42 ہزار 272 لائسنس رجسٹرڈ ہیں۔اس طرح پنجاب میں مجموعی طور پر اسلحہ لائسنسز کی تعداد 10 لاکھ 92 ہزار 644 ہے۔