ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار

خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پاکستان میں سولر پینلز کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، لوڈشیڈنگ اور مہنگے بلوں نے گھریلو اور تجارتی صارفین دونوں کو متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف راغب کیا ہے۔

انرجی ایکسپرٹ انجینیئر نور بادشاہ کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ شروع ہو رہی ہے جیسا کہ پاکستانی کمپنی نیٹ لائن نے ترک کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں اسلام آباد کے مضافات میں تقریباً 180 میگاواٹ کی سالانہ صلاحیت کے سولر پینل بنانے والی فیکٹری کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کی لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ تین مراحل میں مکمل ہو رہا ہے جو سنہ 2025 میں جاری ہے اور سال 2026 تک فعال ہونے کی توقع ہے جس سے ’میڈ ان پاکستان سولر پینلز‘ کی تیاری ممکن ہوگی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔

اسی طرح، پنجاب حکومت نے اگست 2024 میں چینی کمپنی AIKO (ایک لیڈنگ کلین انرجی ٹیکنالوجی فرم) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت صوبے میں ایک بڑا اسمبلی اور مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم ہوگا۔

انجینیئر کامران رفیق کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت امید افزا ہے کیونکہ جب اسمبلی لائنیں چلیں گی اور خام مال کی رسائی بہتر ہوگی تو قیمتوں میں کمی ممکن ہے، امپورٹ پر انحصار کم ہوگا اور مارکیٹ مارجنز بھی بہتر ہوں گے۔

یاد رہے کہ حکومت نے سنہ 2025-26 کے بجٹ میں مکمل تیار سولر پینلز پر ٹیکس استثنیٰ دیا ہے اور اسمبل کیے گئے اجزا پر 10 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا ہے مگر مختلف ڈسٹری بیوٹرز چارجز، تنصیب اور ترسیل وغیرہ کے نام پر اضافی مد شامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے صارف کو زیادہ ادائیگی کرنی پڑتی ہے جو بجٹ میں طے کردہ قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

انجینیئر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ 3 کلوواٹ کے گرڈ ٹائیڈ سولر سسٹم کی قیمت اس وقت اوسطاً 90 ہزار روپے فی کلوواٹ ہے جبکہ ہائبرڈ سسٹم کی لاگت ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 70 ہزار روپے فی کلوواٹ کے درمیان رہتی ہے۔

ان کے مطابق یہ قیمتیں صرف پینلز تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس میں جدید انورٹرز، وائرنگ، انسٹالیشن اور وارنٹی جیسے لازمی مراحل کی لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔