کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت پنجاب کا اہم فیصلہ

علی رامے: پنجاب میں پھر سے   کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت کا اہم فیصلہ سرکاری محکموں میں پچاس سال سے زائد کے ملازمین گھر بیٹھ کر کام کریں گے، بچوں کے ساتھ آنے والی خواتین ملازمین کو بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کی کیبنٹ کمیٹی برائے انسداد   کورونا نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں   کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر اہم فیصلہ کیا ہے جس میں سرکاری محکموں میں پچاس سال سے زائد کے کام کرنے والے ملازمین اب گھر بیٹھ کر کام کریں گے۔

جبکہ بچوں کے ساتھ آنے والی خواتین ملازمین کو بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت ہو گی،   کورونا انسداد کیبنٹ کمیٹی نے باقاعدہ اس کی منظوری دے دی ہے اور محکمہ ایس اینڈ جے اے ڈی کو جلد از جلد سرکلر جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔ جبکہ دیگر ملازمین کورونا ایس اوُپیز کا خاص خیال رکھیں گے اور ان پر عملدرآمد کریں گے۔

   یاد رہے کہ کورونا کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، مزید 3مریض چل بسے،91 نئے کیسز رپورٹ ہوگئے ہیں اور  وبا میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 51 ہزار 271 ہو گئی،سروسز ہسپتال شعبہ پلمانالوجی کے سربراہ اور انچارج کورونا آئی سی یو پروفیسر ڈاکٹر کامران چیمہ  نے نئے کیسز میں تشویشناک مریضوں کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ور کہا کہ اگر احتیاط نہ برتی تو دو ماہ میں کیسز مزید بڑھ سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں، شہری کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں، گرم پانی پیئں اور ماسک استعمال کریں۔