چینی بحران میں کون ملوث تھا ؟ ٹھوس شواہد سامنے آگئے

سٹی 42: چینی بحران میں کون ملوث تھا ؟ ٹھوس شواہد سامنے آگئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شوگر مافیا ناجائز منافع خوری میں ملوث ہے اور جہانگیر ترین کے جے ڈبلیو گروپ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں۔مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمیشن کی طرف سے ایک تفصیلی انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن اور مالکان کی ملی بھگت ثابت ہو گئی ہے۔

مسابقتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کے جے ڈبلیو گروپ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں جب کہ شوگر ملز کو شوکاز نوٹسز جاری کیا جائے گا۔انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ بحران میں بھی شوگر ملز ایسوسی ایشن اور مالکان کے درمیان گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے جب کہ شوگر ملز مالکان چینی کی درآمد پر بھی اثر انداز ہوئے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  درآمد میں تاخیر سے چینی کی 3 ماہ میں قیمت میں 16 روپے سے زیادہ اضافہ ہوا، 2019 میں چینی کی قیمت میں 18 روپے فی کلو اضافے سے 40 ارب ریونیو لیا گیا جب کہ 29 ارب روپے سے زیادہ کی ایکسپورٹ سبسڈی بھی لی گئی۔

خیال رہے کہ  حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی ہے  جس کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور خسرو بختیار کے بھائی عمرشہریار کی چینی ملز نے چینی اسکینڈل میں  پیسے بنائے ہیں۔فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکےمتاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔