ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ویپنگ کو محفوظ سمجھنا غلط فہمی، تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات کی نشاندہی

ویپنگ کو محفوظ سمجھنا غلط فہمی، تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات کی نشاندہی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ) کو سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں، کیونکہ نئی تحقیقات کے مطابق یہ بھی انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

سگریٹ نوشی کو پہلے ہی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم حالیہ سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ویپنگ بھی جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویپ استعمال کرنے والوں میں منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں کے ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ڈی این اے میں خرابی سے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپ میں روایتی تمباکو استعمال نہ ہونے کی وجہ سے اسے کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، تاہم میٹھے اور مختلف فلیورز والے ویپ مصنوعات بھی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں پوڈ سسٹم استعمال کرنے والوں میں بھی زیادہ نقصان کے آثار دیکھے گئے۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور سگریٹ نوشی کے طریقہ کار مختلف ضرور ہیں، لیکن دونوں عادات صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔ بعض تحقیقات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح روایتی سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ ویپنگ کو نقصان سے بچاؤ کا محفوظ راستہ نہ سمجھا جائے اور صحت کے تحفظ کے لیے اس عادت سے دور رہنے کی کوشش کی جائے۔

Ansa Awais

Content Writer