ثمرہ فاطمہ :لاہور لٹریری فیسٹیول اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا،۔ اختتامی روز 24 مختلف موضوعات پر ادبی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ فیسٹیول میں اسلامک کیلی گرافی پر ورکشاپ بھی ہوئی
لٹریری فیسٹیول میں نامور ادیبوں اور مصنفوں کی کتابوں کی رونمائی بھی ہوئی۔ مجموعہ، پاکستان کے ثقافتی پہلوؤں، مغلیہ فن تعمیر، خواتین مصنفین اور ان کے بہادر کردار پر گفتگو کی گئی۔ کوہ پیماہ نائلہ کیانی نے بھی اپنے تجربات سے شرکا کو آگاہ کیا۔وفاقی وزیر پٹرولیم و توانائی مصدق ملک بھی ایل ایل ایف کا حصہ بنے۔ مصدق ملک نے کہا اس طرح کے فیسٹول ادب، ثقافت اور لٹریچر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں ۔
شرکا نے کہا ۔اس طرح کے ادبی فیسٹیول سال میں دو بار منعقد ہونے چاہیے۔
سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نسیم اشرف، سابق ہائی کمشنر شاہد ملک، مصنف ناصر عباس نئیر، ایاز احمد، افتخار عارف، نور الہدی شاہ، اصغر ندیم سید اور شیبا عالم سمیت ملکی و غیر ملکی مندوبین نے ایل ایل ایف کو رونق بخشی۔ موسیقی کے تڑکے اور ڈرم سرکل نے بھی خوب سماں باندھا ۔
ایل ایل ایف میں تم اپنی کرنی کر گزرو پر نمائش بھی ہوئی ۔کتابوں اور آرائشی سامان کے سٹالز بھی شرکا کی توجہ کا مرکز رہے ۔