ماں نے بچوں کو آگ کیوں لگائی؟ بچ جانے والے اذان سے سب بتادیا

عابد چودھری: ماں کے ہاتھوں بچوں کو آگ لگانے کا معاملہ، واقعہ میں زندہ بچ جانے والے پانچ سالہ اذان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ بچے نے وقوعہ کے تمام مناظر پولیس کو بتادیے ہیں۔ اذان کا اپنے ابتدائی بیان میں کہنا تھا کہ ماما نے ماچس سے کمرے میں آگ لگائی۔ میں بھائی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا پھر باہر بھاگ گیا۔ بھائی سو رہے تھے تو ماما نے آگ لگا دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معصوم بچے کا بیان حقائق سامنے لانے میں معاون ثابت ہوا۔

واضح رہے گزشتہ روز مانگا منڈی کے علاقے میں ماں نے اپنے دو کم سن بچوں کو قتل کر دیا تھا، تنزیلہ بی بی نے تین سالہ عبدالرحمان اور چار سالہ فیضان کو قتل کر کے گھر کو آگ لگا دی تھی۔ افسوسناک واقعہ کوٹ اسد اللہ میں پیش آیا تھا پولیس نے لاشیں تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دی۔

پولیس نے بچوں کی والدہ اور باپ کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ معاشی تنگدستی کے باعث میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ والدہ نے بچوں کو گلا دبا کر قتل کیا اور بعد میں کمرے کو آگ لگائی، فرانزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اکھٹے کر لیے تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

پبلک مقامات پر آئے دن آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لئےایل ڈے نے خاص پلان تیار کیا ہے جس کے تحت پبلک مقامات پر فائر ہائیڈرنٹ نصب کئے جائیں گے۔ ڈی جی ایل ڈی اے آمنہ عمران کے احکامات پر سپیشل کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ صدیق ٹریڈ سینٹر کو غیر مناسب انتظامات پر نوٹس بھی جاری کر دیا گیا تھا۔