ویب ڈیسک: ایران نے نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے متوقع نئی پابندیاں تہران کو شکست دینے میں ناکام رہیں گی، جبکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے رئٹرز کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پیر کو علاقائی امن اور سلامتی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کریں گے۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر دورے کے دوران حالیہ پیش رفت، بشمول امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کی دھمکی، پر بات کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ تہران کو پڑوسی ممالک سے علاقائی سکیورٹی کے نئے انتظامات اور معاشی تعاون کے حوالے سے متعدد پیغامات موصول ہوئے ہیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دوسری جانب سفارتی حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ طاقت اور وقار کے ساتھ کرنا بہتر ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی کو واشنگٹن کی مایوسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے بھی امریکی کارروائیوں کا سامنا کرچکا ہے اور نئی پابندیاں بھی ناکام ہوں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔ بیسنٹ اس سے قبل ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایران پہلے ہی عالمی پابندیوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایرانی بنیادی ڈھانچے کو بھی بار بار نشانہ بنایا گیا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ ایران نے غیر مجاز تیل بردار جہازوں کو اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو ایران سے احترام کے ساتھ بات کرنی چاہیے تاکہ انصاف اور وقار پر مبنی حل تلاش کیا جاسکے۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات، خواہ ناکہ بندی ہو یا فوجی کارروائیاں، ناکام ہوچکے ہیں اور نئی پابندیوں کا معاملہ بھی ناکام ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے ممالک کے لیے معاشی نتائج کی وارننگ دی ہے، جبکہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے بھی واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر زور دیا ہے۔ چین ایران کا 80 فیصد سے زائد برآمدی تیل خریدتا ہے اور بیجنگ نے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔