سٹی 42: وزارت خزانہ نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق ایک رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے وضاحت جاری کردی۔ وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام حکومت کا مجموعی پروگرام ہے، جو صرف وزارت خزانہ تک محدود نہیں۔ پروگرام میں وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، توانائی، صوبائی حکومتیں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق متعلقہ وزارتیں اور ادارے اپنے دائرہ کار سے متعلق اصلاحات اور اہداف کے تعین کے لیے تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام صرف مالیاتی اہداف اور اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس، توانائی کے شعبے میں بہتری اور موسمیاتی لچک سمیت وسیع اصلاحات پر مشتمل ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پروگرام کا مقصد معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں بلکہ متعدد محصولاتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ مالیاتی حکمت عملی میں ایف بی آر محصولات میں اضافہ، ٹیکس بنیاد میں توسیع، صوبائی ٹیکسوں اور اخراجات کو معقول بنانا سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پروگرام میں اضافی محصولات کے حصول اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ بھی پروگرام کے متفقہ فریم ورک کا حصہ ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ افراط زر، بے روزگاری، غربت اور کم شرح نمو کو کسی ایک مالیاتی ذریعے سے براہ راست منسلک کرنا درست نہیں۔ ملکی معاشی نتائج پر عالمی و ملکی اجناس کی قیمتیں، شرح مبادلہ، مالیاتی و زری حالات، مالیاتی عدم توازن، بیرونی مالیاتی وسائل کی دستیابی اور عالمی حالات سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی استحکام نے معاشی عدم توازن اور طلب کے دباؤ میں کمی، مہنگائی میں کمی اور بیرونی شعبے کے استحکام میں معاونت کی ہے۔ مالیاتی پائیداری کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی پائیدار نجی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ مالیاتی استحکام کے اقدامات سماجی تحفظ کے بغیر نہیں کیے گئے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں سماجی تحفظ کے لیے واضح اہداف شامل ہیں، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہدفی نقد معاونت اور مہنگائی کے مطابق نقد امداد میں ایڈجسٹمنٹ کے اقدامات بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں قرضوں میں اضافے کی رفتار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔
زرعی شعبے سے متعلق اصلاحات کے بارے میں وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ یہ صرف وزارت خزانہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کا بھی کردار ہے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی اور انتظامی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے، جبکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مناسب پالیسی بحث کا محور استحکام بمقابلہ ترقی نہیں بلکہ معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب منتقلی کا راستہ تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی طرح مالیاتی اور بیرونی عدم توازن دوبارہ آئی ایم ایف کے استحکامی پروگرام کی ضرورت پیدا نہ کرے۔