ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے چیمبر انتخابات کے خلاف درخواست فریقین میں معاملات طے پانےپر نمٹا دی

لاہور ہائیکورٹ نے چیمبر انتخابات کے خلاف درخواست فریقین میں معاملات طے پانےپر نمٹا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات کے خلاف دائر درخواست فریقین کے درمیان معاملات طے پانے اور درخواست کی پیروی نہ کرنے کے بعد نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ڈی جی ٹریڈ آرگنائزیشن کے 23 ستمبر کے آرڈر کے مطابق درخواست گزاروں کی داد رسی ہوگئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسد علی باجوہ نے لاہور چیمبر کے انتخابات مناسب جگہ پر کرانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ درخواست لاہور چیمبر کے ممبران زمان نصیب اور سردار عثمان غنی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جبکہ درخواست گزاروں کی طرف سے احسن بھون ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد زین قاضی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران اسسٹنٹ  اٹارنی جنرل نے ڈی جی ٹریڈ آرگنائزیشن کی جانب سے آٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور چیمبر آف کامرس کے دفتر میں انتخابات کرانے پر کسی فریق کو اعتراض نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے ممبران میں دونوں فریقین کے تین تین ارکان شامل ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جس فریق نے الیکشن کمیشن کے ارکان پر اعتراض اٹھایا تھا، اس فریق کے بھی تین ارکان الیکشن کمیشن میں شامل کر لیے گئے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈی جی ٹریڈ آرگنائزیشن کے  23 ستمبر آرڈر کے مطابق انتخابات کا مقام لاہور چیمبر آف کامرس کا دفتر ہوگا، جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ دونوں فریقین کے تین تین ارکان الیکشن کمیشن میں شامل ہونے پر بھی اتفاق ہوچکا ہے۔

عدالت کے روبرو بتایا گیا کہ لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق 23 اور 24 ستمبر کو ہوں گے اور انتخابات چیمبر کے دفتر میں ہی منعقد کیے جائیں گے۔جسٹس اسد علی باجوہ نے فریقین کے درمیان اتفاق رائے اور درخواست گزار کی جانب سے مزید پیروی نہ کرنے کی بنیاد پر درخواست نمٹا دی۔یوں لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات کے مقام اور الیکشن کمیشن کی تشکیل سے متعلق تنازع فریقین کے درمیان باہمی اتفاق رائے سے حل ہوگیا اور انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق کرانے کی راہ ہموار ہوگئی۔