ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا کی کوئی حکومت اے آئی کے اثرات کیلئے تیار نہیں: بل گیٹس

دنیا کی کوئی حکومت اے آئی کے اثرات کیلئے تیار نہیں: بل گیٹس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے انتباہ کیا ہے کہ دنیا کی کوئی حکومت آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے مرتب ہونے والے اثرات کے لیے تیار نہیں۔

 ایک انٹرویو کے دوران بل گیٹس نے کہا کہ کسی بھی حکومت نے اے آئی سے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیاریاں نہیں کی ہیں۔

 انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی سے ملازمتوں چھننے، سائبر حملوں اور اے آئی کمپیننز کی لت جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 بل گیٹس نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے وہ اے آئی کے حوالے سے خوش آئند توقعات رکھتے تھے مگر اب انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کرلیا ہے۔

 تمام تر خدشات کے باوجود بل گیٹس اور ان کی گیٹس فاؤنڈیشن کو توقع ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی سے امیر اور غریب کے درمیان خلا میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

 گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ارب ڈالرز تعلیم، طبی نگہداشت اور زراعت پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 اس سرمائے سے ایسے اے آئی ماڈلز بھی تیار کیے جائیں گے جو تمام زبانوں میں کام کرسکیں گے۔

 بل گیٹس کے مطابق صحت کے شعبے کے حوالے سے اے آئی ٹیکنالوجی میں موجود مواقعوں کو نظرانداز کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس سے نئی ادویات اور ویکسینز کی دریافت بہت تیزی سے ممکن ہوسکے گی۔

 انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے ملکر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

 انہوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کا موازنہ ایک قدرتی آفات پر مبنی فلم سے کرتے ہوئے کہا کہ ممالک کو اس خطرے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اے آئی کو آپ کسی ایلین انٹیلی جنس سمجھ سکتے ہیں، جو اب یہاں ہے۔

 اس سے قبل اگست 2026 کے آخر میں ایک بلاگ پوسٹ میں بل گیٹس نے مطالبہ کیا تھا کہ مخصوص شعبوں میں انسانوں کے لیے ملازمتوں کو مختص کیا جائے تاکہ اے آئی ٹیکنالوجی ان کی جگہ نہ لے سکے۔

 انہوں نے پیشگوئی کی کہ اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں متعدد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

 انہوں نے کہا کہ 'میرا ماننا ہے کہ اے آئی اور روبوٹس میں بہتری کے ساتھ ہم چند مخصوص شعبوں کو انسانوں کے لیے مختص کر دیں'۔

 انہوں نے بتایا کہ 'یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے ہم نے قدرتی علاقوں کو مخصوص کیا ہوا ہے تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچ سکے'۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ 'جیسے طبی شعبے میں انسانوں کی ضرورت ہے، تصور کریں کہ کوئی روبوٹ آپ کو کسی ناقابل علاج مرض کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے'۔
 

Ansa Awais

Content Writer