ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

"امن کی خاطر وفاق کے ساتھ مل کر چلنے" کا  اعلان

PTI, Counter Terrorism war, KPK Government, Suhail Afridi
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  خیبر پختونخواکےوزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے "امن کی خاطر وفاق کے ساتھ مل کر چلنے" کا  اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

پشاور میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا،  خیبر پختونخوا کی پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشتگردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، پولیس کے لیے جدید آلات کی خریداری کی منظور دے چکا ہوں۔

سہیل آفریدی نے کہا،  وفاق واجبات دے تو پولیس اور صحت سمیت تمام شعبوں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں فارنزک لیب قائم کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا،  پی ٹی آئی کچھ کر رہی ہے تو ہی خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار موقع دیا، موجودہ چیف سیکرٹری اور آئی جی بہترین کام کر رہے ہیں، چاہتا ہوں کہ موجودہ آئی جی کام جاری رکھیں۔

سہیل آفریدی نے خبر پختونخوا کے دہشتگردوں کے مسلسل حملوں کی زد میں آئے ہوئے صوبہ کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا تو انہوں نے بار بار یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں وفاقی فورسز کو   کارروائی کرنے نہیں دیں گے جیسے وہ اب تک کرتی آ رہی ہے۔ آج ان کا نکتہ نظر اس سے بالکل مختلف تھا۔

پختونخوا میں کرپشن کے متعلق سوالات کے جواب میں سہیل آفرید ی نے کہا، وفاق کو دعوت دیتا ہوں خیبر پختونخوا میں آڈٹ کرے۔ میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اسے سزا ملنی چاہیے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا دہشت گردی نے خیبرپختونخوا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے، امن کی خاطر وفاق کا ساتھ دوں گا، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو سزا دینے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی ہدایت کر دی ہے، انسداد دہشتگردی کے قوانین میں سقم ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ ک سہیل آفریدی نے کہا،  سیاسی اختلافات اپنی جگہ کسی بھی اقدام سے صوبوں کے عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، پانی بند کرنے سے متعلق جنید اکبر کا بیان غلط تھا، دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں، اللہ نہ کرے پنجاب بھی دہشتگردی کا سامنا کرے۔