ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مولانا فضل الرحمان کو پی ایچ ڈی کی اعززی ڈگری تفویض ؛ مولانا ڈاکٹر بن گئے

مولانا فضل الرحمان کو پی ایچ ڈی کی اعززی ڈگری تفویض ؛ مولانا ڈاکٹر بن گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکی جو دلچسپ موڑ پر لے گئی ۔ گورنر سندھ نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگر ی دی ہے آج سے مولانا کو ڈاکٹر کہہ سکتے ؛ جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا   میں پھر  بھی ڈاکٹرکی بجائے مولانا کہلوانا پسند کروں گا ۔
گورنر سندھ نے  پریس کانفرنس میں کہا آج مولانا فضل الرحمان نے گورنر ہاؤس تشریف لاکر گورنر ہاؤس کو عزت بخشی.میرے لیئے عزاز کی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو پی ایچ ڈی کی عزازی ڈگری تفویض کی.آج سے مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹر کہہ  سکتے ہیں
آج مولانا صاحب سے میری  طویل گفتگو ہوئی۔آج جو میری مولانا فضل الرحمان سے بات ہوئی ہم نے بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے دس مئی کو پاکستان کو عزت بخشی۔ہم نے دشمن کا منہ  کالا کیا، یہ سب کے سامنے ہے۔پاکستان میں جو دہشت گردی ہے ان خوارج کا تعلق جاکر افغانستان سے ملتا ہے۔جب افغانستان سے تعلقات ٹھیک نہیں تھے جب بھی مولانا صاحب نے وہاں جاکر بات کی۔جو خوارج ہے ان کے لیئے تمام دینی مدارس ہے ان کو  فتو ی ٰبھی جاری کرنا چاہیے۔ہمارے تمام مدارسِ جو  دینی تعلیم دے رہے ہیں۔دنیاوی اور دینی طبقے کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا پاکستان کو معاشی ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔آج پاکستان کے اندر علما کرام موجود ہے۔جو کہ بھارت کومنہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار کھڑے ہیں ۔ ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان ہی سالمیت اور بہتری کے لیے کام کررہے ہیں۔

آج میں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کے لیئے حلیم بنایا ہے۔امید ہے کہ انھیں پسند آئے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا آج گورنر سندھ کی دعوت پر میں یہاں تشریف لایا ۔ گورنر سندھ کی محبتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں شکریہ ادا کرتا ہوں گورنر صاحب نے پی ایچ ڈی کی عزازی ڈگری تفویض کی۔لیکن میں پھر بھی مولانا کہلانا ہی پسند کرونگا۔برصغیر میں اگر دینی مدارس موجود ہے، قرآن حدیث اور فرقوں کو علوم سے خارج کیا جائے گا، تو کیا بنے گا۔دیدنی علوم اور مدارسِ کا خارج ہوں، یہ درست نہیں
ہم ڈسکس کریں تاریخ کو ہمیں دیکھنا ہے کہ پاکستان کا افغانستان کبھی دوست نہیں رہا۔یہ بات کی کیا وجہ ہے، کیا ہمارا اپنا افغانستان پالیسی کا فیلیئر تو نہیں ہے۔کیا ہم نے کبھی دیکھا ہے کہ ہم نے پیروی کسی اور کی کررہے ہیں۔ہمارا دینی امتحانی نظام سب سے بہتر ہے۔ہم پاکستان کے طاقتوردفاع کا خیر مقدم کرتے ہیں۔تمام ادارے متحد ہونگے تو ہم مل کر کام کرسکے گے ۔ 
میں فیض احمد فیض کا مداح ہوں۔مقالموں کو نوجوان نسل کے لیئے مثبت نظر سے دیکھتا ہوں۔مجھے شکایت ہے وہاں کی حکومت سے ہے ۔ زور کسی اور جگہ سے آرہا ہے ہم زور کہیں اور لگا رہے ہیں۔مہاجرین کو مہمانوں کے طرح ٹریٹ کرنا چاہیے۔چھبیسویں ترمیم اتفاق سے ہوئی اس پر کوئی شک نہیں۔ستائیسویں ترمیم یک طرفہ ہوئی ہے یہ بات سب جانتے ہیں۔اٹھارہ کا انتخاب دھاندلی تھا سولہ کا انتخاب بھی دھاندلی تھا ۔دونوں انتخابات دھاندلی زدہ تھے ۔نئے انتخابات ہونے چاہیے
  گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں۔افغانستان کی حکومت کو دہشت گردی سے لاتعلقی کرنا چاہیے۔ہم نے افغان شہریوں کو جنگ کے دوران اپنا مہمان اور بھائی بناکر رکھا۔بھارت اپنی  شکست کا بدلہ لینے کے لیے پر تول رہا ہے۔پاکستان کی سالمیت کی بات آئے گی تو دینی طبقہ اپنا کردار ادا کرے گا،پاکستان معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔