ویب ڈیسک :فرانس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ ایلیسی پیلس ایک غیرمعمولی اسکینڈل کی زد میں آ گئی ہے، جہاں سربراہ سٹیوارڈ کو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے دوران چاندی کے برتنوں سمیت قیمتی اشیاء چوری کر کے غیرقانونی طور پر فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق چوری کی مالیت تقریباً 15 ہزار سے 40 ہزار یورو کے درمیان بتائی گئی ہے, سٹیوارڈ کی حرکتوں پر شک تب ہوا جب ایلیسی پیلس کے اندرونی عملے نے کئی قیمتی اشیاء کے غائب ہونے کی اطلاع دی, فرانس کی مشہور سیورز مینوفیکچرنگ کمپنی نے بھی کئی غائب شدہ برتن آن لائن نیلامی ویب سائٹس پر دیکھ کر چوری کی تصدیق کی, تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار شدہ سٹیوارڈ کا تعلق ایک ایسے کاروباری شخص سے تھا جو آن لائن فروخت کے شعبے میں کام کرتا ہے. خاص طور پر میز و برتن اور دیگر قیمتی اشیاء کی فروخت میں۔ ان کے وِنٹڈ اکاؤنٹ پر ایسے برتن بھی ملے جو عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں۔
ونٹڈ ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ اپنی استعمال شدہ یا نئی چیزیں، خاص طور پر کپڑے، جوتے، بیگز، اور دیگر اشیاء، فروخت کرسکتے یا خرید سکتے ہیں۔ تحقیقات کے دوران تقریباً 100 قیمتی اشیاء سٹیوارڈ کے ذاتی لاکر، اس کی گاڑی اور مشترکہ رہائش گاہ سے برآمد کی گئیں۔ برآمد شدہ اشیاء میں تانبا کے سوس پین، سیورز پورسلین کے برتن، رینی لا لِک کا مجسمہ اور باکارا شیمپین کے چشمے شامل تھے، برآمد شدہ اشیاء کو بعد میں ایلیسی پیلس واپس کر دیا گیا۔ گرفتار شدگان کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر قومی ورثے سے متعلق چوری اور چوری شدہ مال کے غیر قانونی قبضے کے الزامات عائد کیے گئے, ممکنہ سزا میں 10 سال قید اور 150،000 (ایک لاکھ پچاس ہزار) یورو جرمانہ شامل ہے۔
مقدمہ 26 فروری تک ملتوی کر دیا گیا، عدالت نے تینوں ملزمان کے لیے عدالتی نگرانی کے احکامات جاری کیے۔ انہیں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، نیلامی کے مقامات پر جانے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے پر پابندی عائد کی۔