آج سال کی طویل ترین رات ہےاور آج شروع ہونے والا دن 22 دسمبر سال کا مختصر ترین دن ہوگا۔
ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ سال کی سب سے لمبی رات اور سب سے چھوٹے دن کا یہ موقع ہر سال دسمبر کے مہینے میں آتا ہے اور اس کی تاریخیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ سال 2025 کی سب سے لمبی رات آج 21 دسمبر اور 22 دسمبر کی درمیانی رات ہے۔ آج کی رات پورے سال کی طویل ترین رات اور کل (22) دسمبر سال کا مختصر ترین دن ہوگا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق طویل ترین رات کا آغاز رات 8:03 منٹ سے ہوا، آج شب زمین کے شمالی نصف کرے میں سال کی طویل ترین رات ہوگی اور پیر کا دن سال کا مختصر ترین دن ہوگا اور کراچی میں رات 13 گھنٹے 25 منٹ جب کہ دن 10 گھنٹے 35 منٹ پر مشتمل ہوگا۔
پاکستان زمین کے اس نصف کرے میں ہے جہاں یہ رات سال کی سب سے لمبی رات ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ موقع ہر سال دسمبر کے مہینے میں آتا ہے اور اس کی تاریخیں 20 سے 23 دسمبر تک کوئی بھی رات طویل ترین اور اس سے متصل دنمختصر ترین دن ہو سکتا ہے۔ اس سال یہ موقع 22 دسمبر کی رات اور دن کو ملا ہے۔ شمالی نصف کرے میں سال کی طویل ترین رات ہو، اسے فلکیات کی زبان میں ونٹرسولسٹائس اور شمالی سولسٹائس بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ زمین اپنے محور پر 23.4 درجے جھکی ہوئی ہے جبکہ محوری گردش کے دوران زمین کا اپنا محور بھی کسی گھومتے ہوئے لٹو کی مانند بہت معمولی لڑکھڑاتا رہتا ہے۔ سورج کے گرد چکر لگاتے لگاتے سال میں ایک موقع ایسا آتا ہے جب شمال کی جانب زمینی محور کا انتہائی جھکاؤ سورج سے مخالف سمت میں ہوجاتا ہے۔
زمین کی محوری گردش مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اس لیے یہ موقع آنے کے فوراً بعد ہی زمینی محور کا جھکاؤ واپس پلٹنے لگتا ہے اور زمین کے شمالی نصف کرے کا جھکاؤ ایک بار پھر سورج کی سمت ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں "انقلاب سرما" کے فوراً بعد راتیں چھوٹی اور دن طویل ہونے لگتے ہیں۔

آج سے راتیں چھوٹی، دن بڑے ہونے لگیں گے
آج کی طویل رات اور کل صبح طلوع ہونے والا مختصر ترین دن گزرنے کے بعد کل رات سے راتیں بتدریج چھوٹی ہونے لگیں گی اور دن بتدریج بڑے ہونے لگیں گے۔ دن اور رات کے بڑا چھوٹا ہونے کا یہ عمل جون کے مہینے کی تیسری دہائی کے آغاز میں مکمل ہو گا جب ایک دن سال کا سب سے طویل دن اور اس سے متصل رات سال کی سب سے چھوٹی رات ہو گی۔ جون کی اس چھوٹی رات اور دسمبر کی آج گزر رہی طویل رات میں کئی گھنٹے کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن کل گزری رات سے آج ات کی طوالت صرف چند منت زیادہ ہے جسے ہمارے حواس ٹھیک سے محسوس تک نہیں کر سکتے۔