سٹی42: منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف آج بھی نیب میں پیش نہ ہوئے۔ چارمئی کودوبارہ طلب کرلیا گیا۔ فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں شہباز شریف کرونا سے ڈر کرنیب کےسامنےپیش نہیں ہورہے،لیگی ارکان پارلیمینٹ کا اجلاس بلانےپربضدہیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف پھرنیب کےریڈارپرہیں۔ قومی احتساب بیورونےشہبازشریف کومنی لانڈرنگ کیس میں طلب کیاگیاتاہم وہ پیش نہ ہوئے,انہوں نے پیشی سے انکار کو کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کاجوازبنایا۔
شہبازشریف نےعدم پیشی کےحوالےسےنیب کوجواب لکھ دیا۔جس میں کہا گیا کہ وہ بیمار ہیں۔ کرونا کی وباء بھی پھیلی ہوئی ہے۔ پیشی خطرناک ہوسکتی ہے۔تاہم نیب حکام نےجواب پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے شہبازشریف کو4 مئی دن 12 بجے دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کردیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا اپنے بیان میں کہناتھا کہ بیان جواب جمع کرانے کے باوجود شہبازشریف کی دوبارہ طلبی نیب نیازی گٹھ جوڑ فکسڈ میچ کا ناقابل تردید ثبوت ہے, نیب ردعمل ثبوت ہے کہ شہبازشریف کا 24صفحات کا تفصیلی جواب پڑھا ہی نہیں گیا، شہبازشریف کا جواب پڑھے بغیر دوبارہ طلبی نوٹس نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بدنیتی کا مظہر ہے ،پانچ منٹ میں جوابی مراسلہ بھی بھیج دینا نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بدنیتی کا ثبوت ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ جواب پڑھے بغیر نیب کا عدم اطمنان منصفانہ نہیں تمام مطلوبہ معلومات جمع کرادینا عدم تعاون نہیں ہوتا، 133 دن حراست میں رہنا عدم تعاون نہیں ہوتا ،61 دن نیب عقوبت خانے میں ناحق قید گزارنا عدم تعاون نہیں، نیب کے رویے سے ظاہر ہے کہ شہبازشریف کے جواب سے پہلے ہی نیب جواب تیار تھا ، نیب کا زور ’پیشی‘ پر ہے، شہبازشریف کے جواب پر نہیں۔
دوسری جانب معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ن لیگ پر تنیقد کے تیر چلادئیے،ٹویٹرپیغام میں کہا ن لیگ کے قول وفعل میں تضاد ہے. شہبازشریف کرونا سے ڈر کر نیب کےسامنےپیش نہیں ہورہے، دوسری طرف لیگی ارکان پارلیمینٹ کااجلاس بلانےپربضد ہیں،ن لیگ عوام کوبےوقوف نہ سمجھے۔
ن لیگی قیادت قول و فعل کے تضاد کی زندہ مثال ہے۔ایک طرف شہباز شریف کورونا کے ڈر سے نیب کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کا جواب دینے کو تیار نہیں،سماجی فاصلوں پر اصرار ہے۔دوسری جانب سینکڑوں پارلیمنٹیرینز کی موجودگی میں اجلاس طلب کرنے پر بضد ہیں۔
— Dr. Firdous Ashiq Awan (@Dr_FirdousPTI) April 22, 2020