ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی؛ پاکستان نے اسٹریٹجک فیول ریزرو پلان تیار کرلیا

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی؛ پاکستان نے اسٹریٹجک فیول ریزرو پلان تیار کرلیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان نے ایندھن کے تحفظ کیلئے اہم حکمتِ عملی تیار کرلی ہے۔

حکومت نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تیل بحران سے نمٹنے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت ایک سے تین ماہ تک کے ذخائر محفوظ رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ایک ماہ کی ضروریات کے برابر پیٹرولیم ذخائر بنانے پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کیلئے تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جس میں لگ بھگ 55 کروڑ ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات جبکہ 3 کروڑ ڈالر سے زائد رقم اسٹوریج سہولیات کی تعمیر پر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ اسٹریٹجک ذخائر دوست ممالک کے تعاون سے قائم کرے گا۔ اس حوالے سےسعودی عرب اور کویت نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ جاپان سمیت متعدد ممالک پہلے ہی اس نوعیت کے ذخائر قائم کر چکے ہیں۔

حکام کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس سرکاری سطح پر خاطر خواہ پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں، جبکہ ملک میں صرف تقریباً 21 روز کی ضروریات کے مطابق کمرشل اسٹاک دستیاب ہوتا ہے۔ ایسے میں عالمی منڈی میں اچانک بحران یا سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں حکومتی ذخائر انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اسٹریٹجک ریزرو اور نجی کمرشل ذخائر کو الگ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملک میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت دوست ممالک بھی ضرورت پڑنے پر پاکستان سے تیل حاصل کر سکیں گے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے طویل المدتی توانائی تحفظ منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ قطر کے ساتھ طویل المدتی پیٹرولیم درآمدی معاہدے بھی پہلے سے فعال ہیں۔