ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیلی کام ترمیمی بل پر نظرثانی، خصوصی کمیٹی قائم

وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیلی کام ترمیمی بل پر نظرثانی، خصوصی کمیٹی قائم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل میں شامل بعض اہم شقوں پر مزید غور کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو خاص طور پر رائٹ آف وے سے متعلق قانونی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے، جبکہ سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور احد خان چیمہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور اعوان اور قانون و آئی ٹی شعبوں کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ بل کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جا سکے۔

کمیٹی کو بل کے سیکشن 2 میں شامل رائٹ آف وے فریم ورک کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس عمل کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات، آپٹیکل فائبر کی تنصیب، ٹاورز اور نجی اراضی کے استعمال سے متعلق تجاویز مرتب کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد سفارشات تیار کرکے پیش کرے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اس ترمیمی بل کی منظوری دے چکی ہے اور اب اسے مزید کارروائی کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

مجوزہ بل کے تحت نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری اداروں کو ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ فراہم کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر کوئی نجی مالک، کرایہ دار یا ادارہ موبائل یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو فائبر بچھانے یا ٹاور نصب کرنے کی اجازت نہ دے تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔