سٹی42: آئی ڈی ایف کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ حماس کے دہشت گردوں نے اپنی والدہ شیری کے ساتھ اغوا کئے گئے چار سالہ ایریل اور ایک سال کے کفیر بیباس کو 'ننگے ہاتھوں سے قتل کیا'۔
کل جمعرات کے روز غزہ کے خان یونس سے لائے گئے چار تابوتوں میں موجود لاشوں کا فورنزک تجزیہ کیا گیا تھا جس میں پتہ چلا تھا کہ ایک لاش جسے حماس نے 30 سالہ خاتون شیری بیباس کی لاش قرار دے کر بھیجا تھا وہ شیری بیباس کی ہے ہی نہیں۔ دوسری فائنڈنگز میں بتایا گیا تھا کہ ایریل بیباس اور کفیر بیباس کو تشدد کر کے مارا گیا ہے۔
کل شب ہی اسرائیل میں ان دونوں فائنڈنگز کو لے کر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اسرائیل نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ شیری بیباس کو دوسرے یرغمالیوں کے ساتھ واپس کرے۔ آج جمعہ کے روز حماس کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شیری بیباس کی لاش دراصل دوسرے مرنے والوں کی لاشوں کے ساتھ مل گئی تھی۔ حماس نے دعویٰ کیا کہانہوں نے شیری بیباس کو جس رہائشی عمارت مین رکھا تھا اس پر کئی روز مسلسل بمباری ہوئی تھی جس کے دوران کئی لوگ مارے گئے تھے۔ ان کی لاشوں کی باقیات تلاش کر کے پلاسٹک کے تھیلوں مین رکھی گئیں، اس عمل کے دوران حماس کا دعویٰ ہے کہ شیری بیباس کی لاش کسی دوسری عورت کی لاش سے بدل گئی۔
آج جمعہ کے روز اسرائیل کی فوج آئی ڈی ایف کیے ترجمان رئیع ایڈملر ڈینئیل ہیگاری نے کہا، "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ صرف 10 ماہ کے بچے کفیر بیباس اور اس کے بڑے بھائی ایریل، جن کی عمر چار سال ہے، دونوں کو نومبر 2023 کے بعد غزہ میں یرغمال بناتے ہوئے دہشت گردوں نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ ان دونوں معصوم بچوں کو ان کی والدہ شیری کے ساتھ 7 اکتوبر 2023 کو ان کے گھر سے زندہ یرغمال بنایا گیا تھا۔"
آئی ڈی ایف کو یقین ہے کہ حماس کے دہشت گردوں نے 7 اکتوبر 2023 کو اغوا کرنےکے چند ہفتوں بعد بچوں ایریل اور کفیر بیباس کو "ننگے ہاتھوں" سے قتل کیا۔ 7، 2023۔
"حماس کے جھوٹ کے برعکس، ایریل اور کفیر ایک فضائی حملے میں نہیں مارے گئے۔ ایریل اور کفیر بیباس کو دہشت گردوں نے کولڈ بلڈڈ قتل کیا،‘‘ فوج کے تررجمان ڈینئیل ہیگاری نے مزید کہا، "دہشت گردوں نے دو کمسن لڑکوں کو گولی نہیں ماری - انہوں نے انہیں اپنے ننگے ہاتھوں سے مار ڈالا۔ بعد ازاں ان مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھیانک حرکتیں کیں۔ یہ تشخیص فرانزک نتائج پر اور اس کے ساتھ انٹیلی جنس پر مبنی ہے جو اِن نتائج کی تائید کرتی ہے۔ ہم نے اس انٹیلی جنس اور فرانزک نتائج کو دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیا ہے تاکہ وہ اس کی تصدیق کر سکیں۔"
غزہ جنگ بندی معاہدہ کے پہلے مرحلہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی اسرائیل کے گاؤں کیبوتز نیر عوض میں 7 اکتوبر 2023 کو اپنے گھر سے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ اغوا کی گئی 30 سالہ خاتون شیری بیباس کی واپسی کا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے اور ان کے دو بچوں کے بمباری کی بجائے تشدد سے مرنے کا سنگین الزام سامنے آ گیا ہے۔
ہیگاری نے مزیا کہا: ’’پوری دنیا کو بخوبی معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیم کس طرح کام کرتی ہے۔ ایریل اور کفیر کو قتل کیا گیا اور پھر کل غزہ میں ایک مذموم اور ظالمانہ تقریب میں ان کی لاشیں واپس کی گئیں۔ شیری بیباس، جسے معاہدے کے تحت اپنے بچوں کے ساتھ اسرائیل واپس جانا تھا، حماس نے واپس نہیں کیا۔ حماس نے جھوٹ بولا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
حماس نے جس لاش کا جھوٹا دعویٰ کیا وہ شیری کی نہیں تھی اور نہ ہی یہ کوئی اور یرغمال تھی۔ اس کے بجائے حماس نے ایک نامعلوم خاتون کی لاش بھیج دی۔ یہ حماس کے وحشیانہ ظلم کا مزید ثبوت ہے۔"
رئیر ایڈمرل ڈینئیل ہیگاری نے کہا، اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ شیری بیباس کو جلد از جلد اسرائیل واپس کیا جائے۔