ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بریڈ سینکنا بھی خطرناک، عام برقی آلات ایک منٹ میں کھربوں ذرات خارج کرتے ہیں    

بریڈ سینکنا بھی خطرناک، عام برقی آلات ایک منٹ میں کھربوں ذرات خارج کرتے ہیں    
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ایک نئی سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ گھروں میں استعمال ہونے والے عام برقی آلات اندرونی فضا میں نہایت باریک مضر صحت ذرات خارج کرتے ہیں، جو پھیپھڑوں کی گہرائی تک جا سکتے ہیں اور طویل مدت میں صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

سائنسی ویب سائٹ ’’سائنس الرٹ‘‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق لیبارٹری کے ایک بند کمرے میں مختلف گھریلو آلات چلائے گئے اور ان سے خارج ہونے والے الٹرا فائن پارٹیکلز (UFPs) کی مقدار ناپی گئی۔ ان ذرات کا قطر 100 نینو میٹر سے کم ہوتا ہے، جس کے باعث ناک انھیں فلٹر نہیں کر پاتی اور یہ براہِ راست پھیپھڑوں بلکہ بعض صورتوں میں خون کے بہاؤ تک پہنچ سکتے ہیں۔

تحقیق میں بریڈ ٹوسٹر، ایئر فرائر اور ہیئر ڈرائرز شامل تھے۔ نتائج کے مطابق روایتی بریڈ ٹوسٹر سب سے زیادہ نہایت باریک ذرات خارج کرنے والا آلہ نکلا۔ محققین کے مطابق ٹوسٹر نے بغیر بریڈ ڈالے بھی ایک منٹ میں تقریباً 1.73 کھرب ذرات خارج کیے، جسے ’’انتہائی تشویش ناک‘‘ قرار دیا گیا۔

بچے زیادہ خطرے میں
 اگرچہ تحقیق میں انسانوں پر براہِ راست اثرات کا مطالعہ شامل نہیں تھا، تاہم کمپیوٹر سمیولیشن سے ظاہر ہوا کہ یہ ذرات بالغوں اور بچوں دونوں کے نظامِ تنفس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق بچے زیادہ خطرے میں ہیں، کیوں کہ ان کی سانس کی نالیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور ذرات پھیپھڑوں میں زیادہ دیر تک جم سکتے ہیں۔

حرارتی کوائلز اور موٹرز اصل وجہ
 تحقیقی ٹیم کے مطابق ذرات کے اخراج کی بنیادی وجہ گھریلو آلات میں موجود حرارتی کوائلز اور برقی موٹرز ہیں۔ روایتی ماڈلز کے مقابلے میں جدید بغیر برش موٹرز والے ہیئر ڈرائرز 10 سے 100 گنا کم ذرات خارج کرتے ہیں۔

بھاری دھاتوں کی موجودگی نے تشویش بڑھا دی
 خارج ہونے والے ذرات میں تانبا، لوہا، ایلومینیم، چاندی اور ٹائٹینیم جیسی بھاری دھاتوں کے آثار بھی پائے گئے، جو ممکنہ طور پر آلات کے اندرونی حصوں سے حرارت کے باعث فضا میں شامل ہو جاتی ہیں۔

صحت کے ممکنہ اثرات
 ماحولیاتی انجینئرنگ کے ماہر چانگ ہیوک کم کے مطابق، بھاری دھاتوں پر مشتمل یہ ذرات جسم میں داخل ہو کر سوزش اور خلیاتی زہریلے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ سابقہ تحقیقات میں ایسے ذرات کو دمہ، دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور بعض اقسام کے کینسر سے جوڑا جا چکا ہے۔

حل کیا ہے؟
 محققین کا کہنا ہے کہ گھریلو آلات کے بہتر ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی اور سخت ماحولیاتی قوانین کے ذریعے ان خطرناک اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اندرونی فضائی آلودگی کو سمجھنا ایسی پالیسیوں کی تیاری کے لیے ضروری ہے جو گھروں میں، خاص طور پر بچوں کے لیے، صحت مند ہوا کو یقینی بنا سکیں۔