انور عباس:ُ پاکستان نے دہشتگردی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہید جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔
عالمی دن کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی اب کئی شکلیں اختیار کرچکی ہے اور دہشتگرد جدید ٹیکنالوجی اور سائبر اسپیس استعمال کررہے ہیں پاکستان ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن اور ہائیڈرو ٹیررازم کا بھی شکار ہے، جبکہ 2025 پاکستان کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے کا بدترین سال رہا۔
ترجمان نے کہا کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے دہشتگردی کی منصوبہ بندی، معاونت اور ہدایات دی جاتی ہیں، جبکہ دہشتگرد عبادت گزاروں، بچوں، خواتین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بلاامتیاز نشانہ بنا رہے ہیں پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل اور نوعیت کے خلاف پرعزم ہے اور عالمی برادری دہشتگردی کے متاثرین اور بچ جانے والوں کی بلاامتیاز حمایت کرے۔
ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے مطالبے پر قائم ہیں۔
دفتر خارجہ نے فلسطینی عوام بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگوں کی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ترجمان کے مطابق فلسطینیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور حق خودارادیت سے محرومی کا سامنا ہے۔
پاکستان نے کہا کہ غیرملکی قبضے، حل طلب تنازعات اور حق خودارادیت سے انکار انتہاپسندی کو ہوا دیتے ہیں، جبکہ دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون، مکالمے اور مشترکہ کوششوں کو دوہرے معیار سے پاک کیا جانا چاہیے۔