سٹی42: ضمانت ہونےکا مطلب بریت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو ضمانت پر ہونے کے باوجود سزا ہوئی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات عطاالہ تارڑ نے آج سپریم کورٹ سے پی ٹی آئی کے بانی کی نو مئی کے مقدمات میں ضمانت ہونے پر اپنے ردعمل میں کہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔ انہوں نے کہا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کے میگا کرپشن کیس میں ملوث ہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ تاریخ کا میگا کرپشن کیس ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا، بانی پی ٹی آئی کو شواہد کی بنیاد پر شفاف ٹرائفل کے ذریعے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بانی پی ٹی آئی عدالت کو نہ بتا سکے کہ اربوں روپے ملک ریاض کو کس مد میں دیئے گئے۔
انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی نے ثبوت دینے کی بجائے ریاست مدینہ کے بیانیے کا سہارا لیا، ان لوگوں نے حساب دینے کی بجائے اسلامی ٹچ اور مذہب کارڈ استعمال کیا."
عطاء اللہ تارڑ نے کہا، جو اربوں روپے حکومت پاکستان کو ملنے تھے وہ جرمانے کی مد میں جمع کرائے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دامن صاف تھا تو بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیوں بنایا۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بند لفافے کی کابینہ سے منظوری لی گئی۔
جن وزرا نے اس وقت لفافے سے متعلق سوال اٹھایا اسے نظر انداز کیا گیا۔ بند لفافے کی منظوری کے ذریعے 190 ملین پاؤنڈ کا گھپلا کیا گیا۔یہ لوگ عدالت میں اپنے دفاع میں کچھ ثابت نہ کر سکے۔