ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شاید ہم ورکرز کی توقعات پر پورا نہیں اترے ہیں، بیرسٹرگوہر ۔۔بانی چیئرمین ہےاور رہیں گے بات ختم ،علیمہ خان

شاید ہم ورکرز کی توقعات پر پورا نہیں اترے ہیں، بیرسٹرگوہر ۔۔بانی چیئرمین ہےاور رہیں گے بات ختم ،علیمہ خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن ؛ بیرسٹر گوہر کا کہنا  تھا کہ بشری بی بی چونکہ بیمار ہے لہذا ہم چاہتے ہیں انکی رہائی جلد ہو۔شاید ہم ورکرز کی توقعات پر پورا نہیں اترے ہیں ۔علیمہ خان نے کہا بانی چیئرمین ہےاور رہیں گے بات ختم ۔

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن  تھا۔ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مقررہ وقت ختم  ہوگیا۔ ملاقات کے لیے آئے ہوئے کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

بیرسٹر گوہر علی خان اور بابر اعوان داہگل کے مقام سے واپس روانہ  ہوگئے ۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں فیکٹری ناکے پر تاحال موجود ہیں ۔ 

 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان  نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا لاہور میں اسیران کی فیملیز سے ملاقات ہوئی نورین نیازی سے بھی ملاقات ہوئی ۔ ہم بانی اور بشری بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔بشری بی بی چونکہ بیمار ہے لہذا ہم چاہتے ہیں انکی رہائی جلد ہو۔
ہم نے بشری بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔مردان جلسے میں اچکزئی صاحب کیوں نہیں آئے اس بارے ان سے ابھی بات نہیں ہوئی۔سہیل آفریدی سے میری ملاقات ہوئی ہے اس کی تفصیل نہیں بتاسکتا۔ اچکزئی صاحب کو بانی نے ذمہ داری دی ہے۔بانی کی ہدایات ہیں اچکزئی صاحب جو فیصلہ کرینگے انکو فالو کرنا ہے۔
اچکزئی صاحب کی اگر کوئی ناراضی ہے ہم دور کرینگے۔سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں پی ٹی آئی کا موقف لیڈر شپ پیش کرتی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق ہر منگل کو ہم اڈیالہ جیل آتے ہیں۔
16 اکتوبر 2025 کے بعد ہماری ملاقاتیں نہیں ہورہیں۔اتنی بڑی پارٹی کے لیڈر کی ملاقاتیں روکنا جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں۔ہماری خواہش ہے پاکستان ترقی کرے اور اس ملک کو عزت ملے۔ہمیں خوشی ہے دنیا کے بڑے چودھری صلح کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔آپسی تناو ختم ہونا چاہیئے ورنہ یہ تناو نفرت میں بدلے گا۔ہماری درخواست ہے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کرائی جائے۔
خوشی ہے بشری بی بی کی سرجری کے بعد انکی فیملی کی ملاقات ہوئی۔ہمارا مطالبہ ہے بشری بی کو مکمل صحتیابی تک ہسپتال منتقل کیا جائے۔پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اسکے دشمن ہی ناخوش ہونگے۔ہم چاہتے ہیں پاکستان مضبوط ہو۔اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی صلح کراکے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔دہشتگردی پر ہماری واضع موقف ہے اسکو ختم ہونا چاہیئے۔دہشت گردوں کو کوئی چھپنے کی جگہ نہیں ملنی چاہیئے۔

بانی کی فیملی ہمارے لئے قابل عزت ہے۔ہم سے جو کچھ بن پارہا ہے ہم کررہے ہیں۔بانی کی فیملی سمجھتی ہے اسے زیادہ ہوسکتا ہے جو کچھ ہم کررہے ہیں۔نو اپریل کا جلسہ منسوخ کرنے سے متعلق خان صاحب کا پیغام آیا تھا۔بانی کی فیملی کو سیاست کو شوق ہے نہ وہ کسی عہدے کیلئے یہ سب کررہے ہیں۔بانی کہ رہائی کیلئے جاری کوششوں پر فیملی کا کنسرن ضرور ہے۔سب کو کہا ہے جو بھی بات ہو پارٹی کے اندر کریں باہر نہ کریں۔بانی کی بہنوں کے حوالے سے کسی کو سخت لہجہ استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔
میں جب سے چئیرمین ہوں علیمہ خان نے کبھی کوئی ہدایات مجھے نہیں دیں۔علیمہ خان نے جب بھی مجھ سے بات کی بانی سے متعلق کی ہے۔میں تسلیم کرتا ہوں شاید ہم ورکرز کی توقعات پر پورا نہیں اترے ہیں۔ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں بانی کی ہدایات کے مطابق کرتے ہیں۔
 بانی پی ٹی ائی کی بہن علیمہ خان  نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا آپ اپنے گھر میں جو کچھ کریں اس کا باہر سے کیا تعلق ہے ۔برٹش پارلیمنٹ میں سابق امریکی سفیر پر تنقید کی گئی ۔اپنے ملک میں ہم جو کچھ بھی کریں ۔سب سے پہلے اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے ۔اپنے گھر والوں کے ساتھ ظلم کرو اور ہمسایوں کی صلح کرواؤ یہ کیسے ممکن ہو ۔آپ پر اعتبار کون کرے گا اپنے لوگوں کو یقین نہیں ہے ۔بانی پی ٹی آئی کے غیر قانونی طور پر رکھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے 

بانی پی ٹی آئی 80 سے 90 فیصد لوگوں کا نمائندہ ہے ۔ایک طاقتور نمائندہ کھڑا ہوتا ہے تو پوری دنیا اس پر اعتبار کرے گی۔آپ نے چوری کیا ہوا مینڈیٹ رکھا ہوا ہو اور آپ کی دولت دبئی اور لندن میں پڑی ہو ۔مسلمان ملک نے غزہ یا ایران میں سکول پر میزائل کی مذمت نہیں کی۔بانی چیئرمین ہےاور رہیں گے بات ختم، 

سیاسی پارٹی بانی پی ٹی آئی نے 30 سال لگا کر بنائی،یہ بانی پی ٹی آئی  کی ویژن کے مطابق چلائیں۔  بانی پی ٹی ائی کی 30 سال کی محنت ہے۔ یہ نہیں کہ میں اہل نہیں ہوں لیکن ہم ساتھ اپنے بھائی کا دیتے ہیں۔ہم سے زیادہ قابل اور کمٹڈ لوگ بانی پی ٹی ائی کے لیے ہونے چاہیے ۔ ہم سارے اگر بانی پی ٹی ائی کا ویژن اچھی طرح سمجھ لیں اور خوف ختم کریں۔ بانی پی ٹی ائی نے کہا مزاحمت عبادت ہے ۔انہوں نے 20 دسمبر کو کہہ کے بھیجا تھا میرے لیے یہ عبادت ہے۔ وہ اپنا جیل میں بھی بیٹھ کے مزاحمت کر رہے ہیں۔پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اگر پنجاب حکومت مریم نواز روکتی ہے تو غیر قانونی کام یہ کر رہے ہیں۔ہر پاکستانی کو بانی پی ٹی آئی نے سیاسی شعور دیا ہے ۔بانی پی ٹی آئی کا ووٹ لے کر سارے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں 

پی ٹی آئی والے فارم 47 یا 45 لے کر سارے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ۔میرا ووٹ لطیف کھوسہ کے لیے تھا ۔جمہوریت کے ساتھ سیاست ہے ، ووٹ ڈالنے والوں کا اپنے نمائندوں سے سوال کرنے کا حق ہوتا ہے ۔ہم اپنا جمہوری حق استعمال کرکے سوال ضرور اٹھائیں گے ۔میں سمجھتی ہوں کہ اسپیکر نے منت ترلے کیے ہونگے 

حکومت پر پریشر تھا ، اچھا ہوتا کہ ہم اس پریشر کو استعمال کرتے ۔ہم بانی پی ٹی آئی کا ہسپتال میں علاج کروانے کی بات کرتے ہیں ۔