ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر 5 سالہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر 5 سالہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق بڑی پالیسی تبدیلیوں کا عندیہ دے دیا گیا ہے، جس کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ قوانین میں نرمی کی جا رہی ہے۔

قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری تجارت جواد پال نے ملک کی ٹیرف پالیسی اور گاڑیوں کی درآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر عائد 5 سالہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ان گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کنزیومر ویلفیئر اور مارکیٹ کو زیادہ کھولنا ہے۔

سیکریٹری تجارت نے بریفنگ میں کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت مجموعی ٹیرف بتدریج کم کیے جا رہے ہیں اور نظام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 20 فیصد تک لائی گئی ہے، جبکہ ففتھ شیڈول کی ریشنلائزیشن بھی جاری ہے۔

اجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ماضی میں “پرسنل بیگیج اسکیم” کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آتی رہی ہیں، جن میں اوورسیز پاکستانیوں کے نام اور پاسپورٹس کے غلط استعمال کے واقعات شامل تھے۔

حکام نے مزید بتایا کہ اب درآمد شدہ گاڑیوں کے 62 سیفٹی اسٹینڈرڈز مقامی گاڑیوں پر بھی سختی سے لاگو کیے جائیں گے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے رائے دی کہ طویل عرصے تک مقامی آٹو انڈسٹری کو تحفظ دینے سے مارکیٹ میں مسابقت متاثر ہوئی، اور اب درآمدات کے کھلنے سے قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں امریکی ٹیرف پالیسی پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں حکام نے بتایا کہ امریکہ نے اپنی تجارتی پالیسی کے تحت عمومی طور پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا تھا، تاہم بعد میں اس حوالے سے عدالتی فیصلوں کے باعث صورتحال میں تبدیلی آئی۔