حیدر علی: ملکہ کوہسار مری میں سیاحتی سیزن عروج پر ہے,روزانہ ہزاروں سیاح حسین وادیوں اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے مری کا رخ کر رہے ہیں، تاہم رات9بجے کاروباری مراکز کی بندش کے باعث سیاحوں اور تاجروں دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ترجمان ذرائع کے مطابق مری میں موسم خوشگوار ہوتے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے، دن بھر سیاح پتریاٹہ، کشمیر پوائنٹ، پنڈی پوائنٹ اور دیگر تفریحی مقامات پر وقت گزارتے ہیں جبکہ شام ڈھلتے ہی مال روڈ کا رخ کرتے ہیں، لیکن رات نو بجتے ہی بیشتر دکانیں بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ مری کی اصل رونق رات کے وقت ہوتی ہے اور اگر کاروباری مراکز جلد بند ہو جائیں تو ان کی تفریح اور خریداری دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
دوسری جانب مقامی تاجر بھی لاک ڈاون کے باعث ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مری کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے اور کاروباری پابندیوں کے باعث ان کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
کاروباری مراکز کی جلد بندش سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوتا ہے بلکہ سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سیاحوں اور تاجروں کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کے مری جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ سیاحتی مقام پر سمارٹ لاک ڈاؤن کا خاتمہ کیا جائے تاکہ سیاحت کو فروغ ملے اور مقامی معیشت بھی مستحکم ہو سکے۔