ویب ڈیسک:ایک نئی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ غذا سے چینی (شوگر) کو مکمل طور پر ختم کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں یہ میٹابولک صحت پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے۔
مذکورہ تحقیق امریکی شہر شکاگو میں منعقد ہونے والی طبی کانفرنس اینڈو 2026ء میں پیش کی گئی۔
تحقیق کے دوران چوہوں کو 16 ہفتوں تک 2 مختلف غذائیں دی گئیں، ایک گروپ کو کم چکنائی والی ایسی غذا دی گئی جس میں سکروز (عام چینی) شامل تھی، جبکہ دوسرے گروپ کو اسی نوعیت کی غذا دی گئی لیکن اس میں چینی بالکل شامل نہیں تھی۔
نتائج سے پتہ چلا کہ اگرچہ دونوں گروپوں کا وزن تقریباً یکساں رہا، تاہم چینی سے مکمل پرہیز کرنے والے چوہوں میں کئی غیر متوقع صحت کے مسائل سامنے آئے۔
سائنس دانوں کے مطابق چینی سے مکمل طور پر محروم چوہوں میں خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی، انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) میں اضافہ دیکھا گیا، میٹابولک خرابیوں کی علامات ظاہر ہوئیں، آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کا توازن بگڑ گیا، آنتوں کی سوزش میں اضافہ ہوا، جگر میں ایسی تبدیلیاں سامنے آئیں جو فیٹی لیور کی بیماری سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔
تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحت مند غذا میں توازن انتہائی اہم ہے اور کسی ایک جزو کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری نہیں کہ فائدہ مند ثابت ہو۔