ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومت کا 5 سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ

حکومت کا 5 سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال سے 5 سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایف بی آر حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

 سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو ایف بی آرحکام نے کسٹمز ٹیرف میں ردوبدل پر دوران بریفنگ بتایا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال سے 5 سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ، ان گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

 ایف بی آرحکام کے مطابق آئی ایم ایف نے اگلے 4 سال میں درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی صفر کرنے کی شرط رکھی ہے، گاڑیوں کی درآمد پر ہر سال ڈیوٹی میں 10 فیصد کمی کی جائے گی چاہے ایک گاڑی امپورٹ کریں یا 200 ،ہرگاڑی پر40 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

 حکام وزارت تجارت کے مطابق پرانی گاڑیوں کی امپورٹ ستمبر 2025 سے شروع ہو جائے گی، مستقبل میں 6 اور 7 سال پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی بھی اجازت ہوگی، نئی آٹوپالیسی کے تحت بھی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیز میں کمی ہونے جارہی ہے جس کے،تحت ٹیرف بہت نیچے آجائے گا۔

 قائمہ کمیٹی نے بیگج سکیم اور کمرشل امپورٹ کے تحت 5 سال پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی سفارش کی ہے جس پر حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ بیگج سکیم کے تحت بھی ہمیں 40 فیصد اضافی ٹیکس لگانا پڑے گا، گفٹ سکیم کے تحت بیرون ملک مقیم شہری اپنی فیملی کو ایک گاڑی گفٹ کر سکتا ہے۔

 ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 850 سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس 12.5 سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیاگیاہے۔