ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مون سون 2026 سے قبل ممکنہ سیلابی خطرات، حکومت نے 14 نکاتی جامع پلان تیار کر لیا

مون سون 2026 سے قبل ممکنہ سیلابی خطرات، حکومت نے 14 نکاتی جامع پلان تیار کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: حکومت نے سال 2026 کے مون سون سیزن سے قبل ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے 14 نکاتی جامع پلان تیار کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ منصوبہ 240 دنوں کی مدت میں نافذ کیا جائے گا تاکہ مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق پلان کے تحت تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت، سیلابی پشتوں اور سپرز کی بحالی، دریاؤں کے بہاؤ کی سمت بندی اور زیرِ تعمیر چھوٹے ڈیموں کی تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

شہری علاقوں میں مون سون سے قبل نالوں کی صفائی اور گاد نکالنے کے لیے خصوصی منصوبے تیار کر کے ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ این ایف پی پی فیز فور کے تحت ٹیلی میٹری نیٹ ورک کے پہلے مرحلے کی تکمیل بھی پلان میں شامل ہے، جبکہ قبل از وقت تنبیہ کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے گیجز کی دوبارہ ترتیب اور تاخیر کے اوقات کو درست کیا جائے گا۔

پلان کے مطابق تمام صوبوں میں فلڈ پلین ریگولیشن ایکٹس کے نفاذ، نقشہ سازی اور تجاوزات کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت جون 2026 تک 50 فیصد تجاوزات ختم کی جائیں گی۔

سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پی ایم ڈی، ایف ایف ڈی، این ڈی ایم اے، واپڈا اور صوبائی محکمۂ آبپاشی کے درمیان آبی کارروائیوں اور پیش گوئی کے نظام کو مربوط کیا جائے گا، جبکہ قومی سطح پر تعاون کے لیے نیشنل واٹر کونسل کو فعال بنایا جائے گا۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں مون سون بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب ڈیزائن کر کے آزمائشی بنیادوں پر چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومتی پلان کے مطابق سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اضلاع تک ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دی جائے گی۔ ہنگامی صورتحال میں ادویات، صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی فوری فراہمی کے لیے تیز تر ترسیلی نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ متحرک طبی مراکز، عارضی خیمہ بستیاں اور ریلیف کیمپس بھی قائم کیے جائیں گے۔

امدادی کیمپوں میں عارضی تعلیمی مراکز قائم کرنے، اسکول کٹس کی فراہمی اور اساتذہ کی تربیت کا بھی منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ موسلادھار بارشوں والے پہاڑی علاقوں میں چیک ڈیمز اور پانی ذخیرہ کرنے والے تالاب تعمیر کیے جائیں گے۔ صوبائی منصوبوں میں سیلاب پر قابو پانے، آبی وسائل کے مؤثر انتظام اور موسمیاتی موافقت کو یکجا کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔