سٹی42: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دیں گے، دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں، صورتحال واضح ہے ریاست رہے گی اور دہشتگرد ختم ہوں گے، ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔
صدر مملکت نے یہ باتیں کوئٹہ میں حکومت کے ساتھ امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس میں کہیں۔
صدر آصف زرداری نے اس سے پہلے بلوچستان کے عوامی نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقات کی اور کہا کہ ہم سب کو ان کا حق دینا چاہتے ہیں حقوق چھیننا نہیں چاہتے ، عید کے بعد بلوچستان آ کر کیمپ لگاؤں گا اور تفصیل سے ہر کسی کو سنوں گا۔ بلوچستان اور عوامی بہبود کیلئے ایسے اقدامات کریں گے جس سے بلوچستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے۔
امن و امان سے متعلق اجلاس میں صدر زرداری نے کہا، انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کریں گے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اجلاس میں سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی خاص طور سے شریک ہوئے۔
اجلاس میں قائم مقام گورنر بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری، سمیت اعلیٰ حکام شریک تھے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
صدر مملکت نے واضح کیا کہ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دیں گے، دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں، صورتحال واضح ہے ریاست نے رہنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے،
صدر آصف زرداری نے کہا، انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میرے دل کے قریب ہے۔ صوبے کی ترقی اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے ہر بچے کو اسکول میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، جدید ٹیکنالوجی سے بچوں کو روشناس کروانا وقت کی ضرورت ہے۔

صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کی پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں اور ارکان کی ملاقات
جعفر ایکسپریس دہشت گردی اور اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد بلوچستان کے عوام کے نمائندوں کے ساتھ پہلی ملاقات میں صدر آصف علی زرداری کے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے معاملہ پر تفصیل سے بات کی۔
ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ 2008 میں آغازِ حقوقِ بلوچستان حقوق ہی تو دے رہے ہیں۔ صدر آصف زرداری نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کئے جانے کے بعد 2008 میں وفاقی حکومت سنبھالی تو پہلا کام بلوچستان کے حقوق دینے کا کیا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے بلوچستان سمیت صوبوں کو خود مختاری دی۔
صدر آصف علی زرداری کے اس خصوصی اجلاس میں بلوچستان کے تمام سربرآوردہ سیاستدان موجود تھے اور بلاول بھٹو بھی اجلاس میں بیٹھے تھے۔ ملاقات میں قائم مقام گورنر بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی بھی موجود تھے۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، عوامی نینشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجنئیر زمرک خان اچکزئی اور جماعت اسلامی کے رکن میر عبدالمجید بادینی بھی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کے ساتھ اس اجلاس میں شریک تھے۔ بلوچستان کابینہ کے ارکان، صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور ایم پی ایز بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے صوبے کے مسائل پر بات کی، مسائل کے حل اور عوامی بہبود پر اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔
صدر آصف زرداری نے کہا، بلوچستان کے لوگوں سے دلی لگاؤ اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی بہبود ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے۔
صدر زرداری نے کہا، بحیثیت پاکستانی ہم نے قومی یکجہتی سے وطن عزیز کو آگے لیکر جانا ہے۔ ہم سب کو ان کا حق دینا چاہتے ہیں حقوق چھیننا نہیں چاہتے۔ حقوق دیکر ہی لوگوں کا دل جیتیں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا، بلوچستان کے لئے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو بار آور بنایا جائے گا۔ بلوچستان اور عوامی بہبود کیلئے ایسے اقدامات کریں گے جس سے بلوچستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے۔
صدر زرداری نے بلوچستان کے سیاستدانوں سے وعدہ کیا کہ وہ عید کے بعد زیادہ وقت گزارنے کے لئے بلوچستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا، عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ لگاوں گا ، تفصیل سے ہر کسی کو سنوں گا۔
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اقدامات کی تعریف کی اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔