سٹی 42: سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز منظور کر لی
وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمیٹی نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز زیر غور تھی ۔ گذشتہ برس تنخواہ دار طبقے کے پہلے دو سلیبس پر ٹیکس کم کیا گیا تھا
اس سال تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسز کم کیے گئے ہیں۔شرمیلا فاروقی نے کہا تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ٹیکس ریلیف کم ہے ۔متوسط طبقے کو مزید ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے ۔
تنخواہ دار طبقے سے اس سال 600 ارب روپے کے ٹیکس وصول کیا گیا ۔اس میں سے حکومت صرف 50 ارب روپے کی کمی کی جا رہی ہے ۔
وزیر خزانہ نے کہا حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس سرچارج ختم کیا ہے ۔تنخواہ دار طبقے نے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے ۔حکومت نے بجٹ میں سپر ٹیکس ختم کیا ہے ۔
جاوید حنیف نے کہا متوسط طبقے کو بہت معمولی سا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے ۔سپر ٹیکس کو بڑھا کر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔حنا ربانی کھرنے کہا حکومت کی معاشی سمت درست ہے ۔پاکستان جیسے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے ۔کیا حکومت کی یہ پالیسی درست ہے ؟
سیکریٹری خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا تنخواہ دار طبقے کو مزید ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے مالی گنجائش نہیں ہے ۔22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کیا گیا ہے ۔ 6 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ ہے ۔ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ پر 500 روپے ٹیکس ہے ۔ کمیٹی نے بجٹ میں سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویر منظور کر لی ۔وزیر خزانہ نے کہا ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس زیرو کر دیا گیا ہے ۔
50 کروڑ روپے آمدن سپر ٹیکس 8 فیصد ہے ۔چھوٹے کاروبار پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے ۔سروسز سیکٹر پر ٹیکس 6 سے بڑھا کر 7 فیصد کرنے کی تجویز منظور کی گئی ۔ ڈاکٹرز ، وکلاء اور آرکیٹیکچرز پر 15 فیصد ٹیکس کی تجویز منظور کرلی ۔ سوشل میڈیا سروسز پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویز منظور کی گئی ۔
ایکسپورٹرز پر ٹیکس کی شرح 1.25 فیصد کر دی گئی ہے ۔آئی ٹی ایکسپورٹ پر رعایتی ٹیکس کی اسکیم میں تین سال کی توسیع کی تجویز منظور کی گئی ۔ پراپرٹی سیکٹر کی فروخت پر ٹیکس 2.75 فیصد کرنے کی تجویز منظور کی گئی ۔ پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.25 فیصد کرنے کی تجویز منظور کی گئی ۔ کریڈٹ کارڈز کی انٹرنیشنل ٹرانزیکشنز پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز منظور کی گئی ۔