ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قطعاً قبول نہیں؛ وزیراعظم

اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قطعاً قبول نہیں؛ وزیراعظم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جعلی ادویات کے گھناؤنے کاروبار کے مکمل سد باب کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کردی، کہنا ہے کہ اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قطعاً قبول نہیں۔ 

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی صحت کے امور کے حوالے سے اجلاس ہوا ۔ 

وزیراعظم نے شعبہ صحت میں پائیدار اصلاحات کے لیے اقدامات پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کی متحرک قیادت میں وزارت صحت کی کارکردگی کی پزیرائی کی، کہا کہ پاکستان بھر میں عوام کے لیے صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے رفاحی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کا لائحہ عمل پیش کیا جائے۔ 

وزیراعظم نے پاکستانی فارما کمپنیوں کی عالمی ادارہ صحت سے اکریڈیٹیشن کرانے کی حوصلہ افزائی کی ہدایت کی، کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی اکریڈیٹیشن کرانے سے پاکستانی ادویات کا معیار بہتر ہو سکے گا اور ان ادویات کو برآمد کرنے کے مواقع بڑھیں گے۔ 

وزیراعظم نے پاکستانی میڈیکل کالجز میں معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کالجز کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی، کہا کہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کا جامع ریویو کیا جائے، شعبہ صحت میں اصلاحات کے نفاذ کے عمل میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ 

اجلاس میں وزیراعظم کو شعبہ صحت کی ترقی میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کیا گیا اور ان کے پائیدار حل کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔ اس موقع پر دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادویات اور طبی آلات کی رجسٹریشن کے پورے مرحلے کو اگلے مہینے کے اختتام تک مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیا جائے گا، طبی آلات اور ادویات کی رجسٹریشن کے دورانیے کو ایک سال سے کم کر کے تین ماہ تک لایا جا رہا ہے۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں نئے قائم شدہ بیسک ہیلتھ یونٹس، ریجنل بلڈ سینٹر اور IHITC (Isolation Hospital and Infections Treatment Center) کو مخیر حضرات کے تعاون سے استعمال میں لانے کے لیے منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔ 

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔