وقاص احمد: ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے جاں بحق خاتون علینہ کے اہل خانہ کے ابتدائی بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں، جبکہ بیرون ملک مقیم اس کی دو بہنوں سے بھی رابطہ کرکے ان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق امریکہ اور کینیڈا میں مقیم علینہ کی دونوں بہنوں کے بیانات ٹیلی فون کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے۔ ابتدائی بیانات میں دونوں بہنوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ علینہ ماضی میں ذہنی عارضے کا شکار رہی تھی اور اس کا علاج بھی جاری تھا۔
تحقیقات کے دوران ایک بہن نے پولیس کو بتایا کہ پاکستان روانگی سے قبل علینہ نے انہیں بتایا تھا کہ اس کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، جس کی وجہ سے اس نے اپنی ادویات کی مقدار بھی کم کر دی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے موصول ہونے والے ان بیانات کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے، تاہم دونوں بہنوں کی پاکستان آمد کے بعد ان کے باضابطہ اور تفصیلی بیانات دوبارہ ریکارڈ کیے جائیں گے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ویلنشیا ٹاؤن میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد، فرانزک رپورٹس اور اہل خانہ کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی بھی ایک وجہ یا نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
یادرہے کہ گزشتہ روز بچوں کے باپ ناصر نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ تین سال سے ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور گزشتہ چھ ماہ سے باقاعدگی سے ادویات استعمال کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق جب وہ سامان لے کر گھر پہنچے تو اہلیہ سے بچوں کے بارے میں پوچھا، جس پر انہوں نے بتایا کہ بچے فاطمہ کے ساتھ فلم دیکھنے گئے ہیں۔
ناصر کے مطابق انہوں نے اہلیہ سے کہا کہ بچوں کو اکیلے کیوں بھیجا، ہم بھی ان کے ساتھ جا سکتے تھے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھولا تو محلے داروں نے اطلاع دی کہ گھر کے پچھلے صحن میں بچے پڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صحن میں پہنچنے پر تینوں بچے مردہ حالت میں ملے، جبکہ اسی دوران ان کی اہلیہ کی طبیعت بھی بگڑ گئی، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
ناصر نے اپنے بیان میں خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے ان کی اہلیہ نے آئس کریم میں کوئی زہریلی چیز ملا کر بچوں کو کھلائی ہو، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین فرانزک رپورٹ اور جاری تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
پولیس نے ناصر کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں شخصی ضمانت پر رہا کر دیا تھا، جبکہ فرانزک ماہرین اور تفتیشی ٹیمیں گھر کا دوبارہ جائزہ لے کر مزید شواہد اکٹھے کر رہی تھیں۔
یاد رہے کہ آج صبح ہی پولیس نے قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں یہ واقعہ قتل معلوم ہوتا ہے، جس کے باعث مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ وقوعہ کے روز گھر میں حلوہ، چاول اور سالن تیار کیا گیا تھا۔ پولیس نے تمام کھانوں کے نمونے حاصل کرکے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان میں کسی قسم کا زہریلا مادہ موجود تھا یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زہر کی نوعیت اور واقعے کے حقائق کا تعین فرانزک رپورٹس آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ابتدائی تحقیقات میں گھر کے اندر مزاحمت یا ہاتھا پائی کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے گھر میں موجود برتنوں، ڈریسنگ ٹیبل اور دروازوں کے لیورز سے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیے ہیں، جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ اہل خانہ کے علاوہ واقعے کے وقت گھر میں کوئی اور شخص بھی موجود تھا یا نہیں۔
پولیس نے زیر حراست گھر کے سربراہ کا موبائل فون بھی فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا ہے تاکہ اس سے تفتیش میں مزید اہم معلومات حاصل کی جا سکیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کچھ عرصہ قبل امریکہ سے پاکستان واپس آیا تھا، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس بیان کے مطابق متوفین میں 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عریشہ اور 9 سالہ ارسل شامل تھے ۔ بچوں کا والد ناصر ڈوگرکو حراست میں لے لیا گیا جبکہ مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری تھی ۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کی والدہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھی جو کہ وہاں چل بسی جبکہ بچوں کے والد نے بیوی پر بچوں کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا۔