ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بالی ووڈ کی مشہور فلم کا سیکوئل تیار،ریلیز روکنے کیلئے درخواست دائر

بالی ووڈ کی مشہور فلم کا سیکوئل تیار،ریلیز روکنے کیلئے درخواست دائر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست کیرالہ کے ہالی کورٹ  نے  فلم ’’دی کیرالہ سٹوری. گوز بی یانڈ ‘‘(The Kerala Story 2 – Goes Beyond) کی ریلیز روکنے سے متعلق دائر ایک درخواست پر اہم نوٹس جاری کرتے ہوئے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ ، سینڑل بورڈ آف فلم سرٹیفیکشن  (سی بی ایف سی) اور فلم کے پروڈیوسر سے جواب طلب کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم ’’دی کیرالہ سٹوری. گوز بی یانڈ ‘ کی ریلیز  کے خلاف یہ درخواست سری دیو نمبودری نامی ایک ماہرِ حیاتیات  کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم کا جاری کیا گیا ٹیزر ان کے ’’ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا‘‘ ہے اور اس میں ریاست کیرالہ کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق فلم کے ٹیزر میں تین خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہے جو   بھارتی ریاستوں راجستھان، کیرالہ اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھتی ہیں اور مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ فلم میں ’’رومانس کو ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے غیر شادی شدہ لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرنے اور ملک کی آبادیاتی ساخت بدلنے جیسے حساس موضوعات دکھائے گئے ہیں، جو عوامی سطح پر کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ فلم میں دیگر ریاستوں کی کہانیاں بھی شامل ہیں، تاہم فلم کا عنوان ایسا تاثر دیتا ہے کہ یہ واقعات صرف کیرالہ میں پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی پیشکش پورے علاقے کے لوگوں کو بدنام کر سکتی ہے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ اور علاقائی ہم آہنگی میں خلل ڈال سکتی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ یا تو فلم کی 27 فروری 2026 کو مجوزہ ریلیز پر روک لگا دی جائے، یا پھر مرکزی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ نظرثانی کی درخواست پر مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرے اور اس وقت تک فلم کی نمائش کو مؤخر رکھا جائے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ معاملہ اسلئے بھی اہم بن گیا ہے کیونکہ اس سے قبل 2023 میں ریلیز ہونے والی فلم’’دی کیرالہ سٹوری‘‘ بھی شدید تنازعے کا شکار رہی تھی۔ اس فلم میں مذہبی تبدیلی اور دہشت گردی سے متعلق موضوعات دکھائے گئے تھے، جس پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آیا تھا۔کچھ ریاستوں میں فلم کی نمائش پر پابندی یا محدود ریلیز کی بحث ہوئی، جبکہ دیگر حلقوں نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی کا معاملہ قرار دیا۔ اب اس فلم کے سیکوئل کی ریلیز سے قبل ہی قانونی اور سماجی بحث دوبارہ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا نوٹس جاری ہونا ابتدائی مرحلہ ہے، جس کے بعد متعلقہ فریقین کے جوابات اور سماعت کے دوران عدالت یہ طے کرے گی کہ فلم کی ریلیز پر کوئی عبوری حکم جاری کیا جائے یا نہیں۔