ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رجب بٹ کے خلاف توہینِ نماز کے مقدمے میں اہم  پیش رفت

رجب بٹ کے خلاف توہینِ نماز کے مقدمے میں اہم  پیش رفت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  سوشل میڈیا شخصیت رجب بٹ نے  توہینِ نماز کے  الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

رجب بٹ کا کہنا تھا کہ جس ویڈیو کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا، اسی نوعیت کی ویڈیوز اس سے قبل دو لاکھ سے زائد افراد بنا چکے ہیں  تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود وہ آئندہ محتاط رویہ اختیار کریں گے۔ رجب بٹ نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ انہیں انگلینڈ سے نکالا گیا ہے اور میڈیا سے اس خبر کی تصحیح کرنے کی اپیل کی۔

ملزم کے وکیل میاں اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں مقدمہ درج کروانے کا اختیار صوبائی یا وفاقی حکومت کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی بھی شخص اٹھ کر مقدمہ درج کرا دے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کا قانونی طور پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور عدالت سے اسے ختم کروانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور حقیقت سامنے آئے گی۔

یاد رہے کہ نماز کی بے حرمتی کے الزام میں نامزد یوٹیوبر رجب بٹ نے عبوری ضمانت کے لیے سٹی کورٹ کراچی سے رجوع کر لیا ہے۔ یوٹیوبر رجب بٹ نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی، جہاں ان کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے عدالت میں ان کا بائیو میٹرک مکمل کروایا۔ رجب بٹ کے خلاف حیدری مارکیٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، جس میں ان پر نماز کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کی درخواست پر درج ہوا تھا۔

رجب بٹ اسلام آباد سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد کراچی پہنچے تھے اور سٹی کورٹ میں پیش ہو کر خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس ستمبر میں رجب بٹ کے خلاف غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں بھی مقدمہ درج ہوا تھا، جبکہ ان پر اسلامی شخصیات کی مبینہ توہین سے متعلق ایک اور درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت تھی۔