درنایاب:صوبہ پنجاب میں درختوں کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کا پہلا بورڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ درختوں کی جیو ٹیگنگ اور مؤثر مانیٹرنگ کے لیے جدید ایپلیکیشن تیار کر لی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے تمام درختوں کا ڈیٹا بیس اور ڈیجیٹل میپنگ یقینی بنائی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے ڈیزائن میں شجر کاری اور درختوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی درخت کو کاٹنے کے لیے پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) سے پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔
بریفنگ میں تجویز دی گئی کہ ایک درخت کاٹنے کے بدلے 20 نئے پودے لگانا ہوں گے اور ان کی تین سال تک مکمل نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ شجرکاری کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے دوران ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا، جبکہ پبلک پارکس، گرین ایریاز اور درختوں کے تحفظ کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
مزید برآں، ثقافتی طور پر ڈکلیئرڈ پارکس میں کسی بھی قسم کی سرگرمی کو اتھارٹی کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں 21 مختلف ایجنسیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ مجوزہ قوانین، مالیاتی ماڈل، آپریشنل امور اور پالیسی سازی سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔