ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی مخالف

Counter Terrorism stratagy, Pakistan facing terrorism originated from Afghanistan,
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے گول مول الفاظ میں جو کچھ کہا اس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ  تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف نئے آپریشن کی مخالفت کردی اور قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ یہ بات پاکستان کی ایک مؤقر نیوز آؤٹ لیٹ نے منگل کی رات اپنی ایک رپورٹ میں شائع کی۔

اس رپورٹ مین بتایا گیا کہ بائیکاٹ سے پہلے گزشتہ روز پی ٹی آئی نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا اور سپیکر کو  اس اجلاس مین آنے والے 14 رہنماؤں کے نام بھی بھجوائے۔ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی مین فرنٹ پارٹی "سنی اتحاد کونسل" کے 14 ارکان  کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔

پھر پی ٹی آئی نے اچانک شرط لگادی کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔ صبح ہوتے ہوتے نئی شرط بھی لگادی کہ بانی پی ٹی آئی کو اجلاس کیلئے پیرول پر رہا کیا جائے۔

  جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا کا کہناتھاکہ بانی پی ٹی آئی کی اس اجلاس میں شرکت ضروری ہے اور اجلاس میں شرکت کیلئے بانی پی ٹی آئی کو پیرول پر رہا کیا جائے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا،  " پی ٹی آئی کسی آپریشن کے حق میں نہیں، مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے۔ "

اڈیالہ جیل مین اپنے بانی ے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کے فیصلے کی تائید کی۔

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈرعمر ایوب سمیت پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا۔

بانی کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل مین بانی سے ملاقات کے بعد کہا کہ بانی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ دشمنی مول نہیں لیں۔