عابد چودھری:لاہور کے علاقے ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں یہ واقعہ قتل معلوم ہوتا ہے، جس کے باعث مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ وقوعہ کے روز گھر میں حلوہ، چاول اور سالن تیار کیا گیا تھا۔ پولیس نے تمام کھانوں کے نمونے حاصل کرکے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان میں کسی قسم کا زہریلا مادہ موجود تھا یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زہر کی نوعیت اور واقعے کے حقائق کا تعین فرانزک رپورٹس آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ابتدائی تحقیقات میں گھر کے اندر مزاحمت یا ہاتھا پائی کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے گھر میں موجود برتنوں، ڈریسنگ ٹیبل اور دروازوں کے لیورز سے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیے ہیں، جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ اہل خانہ کے علاوہ واقعے کے وقت گھر میں کوئی اور شخص بھی موجود تھا یا نہیں۔
پولیس نے زیر حراست گھر کے سربراہ کا موبائل فون بھی فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا ہے تاکہ اس سے تفتیش میں مزید اہم معلومات حاصل کی جا سکیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کچھ عرصہ قبل امریکہ سے پاکستان واپس آیا تھا، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں۔
یادرہے کہ گزشتہ روز ویلنشیا ٹاؤن، بی ون بلاک کے ایک گھر سے 3 بہن بھائی مردہ حالت میں ملے تھے۔
پولیس کے مطابق متوفین میں 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عریشہ اور 9 سالہ ارسل شامل ہیں ۔ بچوں کا والد ناصر ڈوگرکو حراست میں لے لیا گیا جبکہ مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری تھی ۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کی والدہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھی جو کہ وہاں چل بسی ۔بچوں کے والد نے بیوی پر بچوں کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا ۔