(ویب ڈیسک) پوری دنیا میں رحمتوں اور برکتوں کے مہینہ ماہ رمضان کی آمد اور اس کے استقبال کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔ رمضان المبارک کے موقع پر افطار و سحرکے اوقات میں کھانے پینے کا اہتمام بیحد خاص ہوتا ہے۔موسم میں تبدیلی ہو چکی ہے اور موسم گرما کی شروعات ہیں، اس مرتبہ 12 گھنٹے سے زیادہ کا روزہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے جسم پر اس کا خاصہ اثر پڑتا ہے ۔ خاص طور سے گرمی کے رمضان میں دھوپ میں نکلنے سر چکراتا ہے ۔ کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنی خوراک کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔افطار کے وقت کھجور اور پھل کا زیادہ استعمال کیا جائے اور فوراً پانی نہ پیا جائے۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری میں پروٹین سے بھرپور خوراک لی جائے جس سے دن بھر آپ کو بھوک کا احساس بھی نہ ہو اور کمزوری بھی محسوس نہ ہو۔ سحری میں زیادہ تیل مسالے والے سالن کا استعمال نہ کریں۔ کوشش کریں کہ غذا میں ریشہ کا زیادہ استعمال ہو، مثلاًپھل اور ہری سبزیوں کا استعمال کریں کیونکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں، اور ان کے استعمال سے دن میں پیٹ خالی محسوس نہیں ہوتا۔ اور ان کے ذریعے جسم کو پانی بھی مہیا ہوتا رہتا ہے۔ سحری میں بھی آپ کسی طرح کا لیکوئیڈ بھی جیسے دودھ اور انجیر کھجور کا شیک بناکر بھی پی سکتے ہیں ۔
رمضان المبارک میں افطار کے وقت کھجور اور پھل کا زیادہ استعمال کیا جائے اور فوراً پانی نہ پیا جائے۔ آم اور کھجور کے ملک شیک لیں اور شربت کا استعمال کریں۔ ضروری ہے کہ سحری اور افطار دونوں وقت احتیاط سے کھائیں اور خوراک کی زیادہ مقدار استعمال نہ کی جائے۔سحری میں وقت سے قبل بیدار ہوں تاکہ وقت کم ہونے کی وجہ سے بے صبری اور جلدی جلدی میں نہ کھانا پڑے، سحری میں بھی ایک کے اوپر ایک چیز بالکل نہیں کھانی چاہئے۔گرمی کے موسم میں جسم کو پانی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے پانی بھی پوری مقدار میں پیئیں لیکن ایک ساتھ ایک دو لیٹر پانی پینے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے پیا جائے۔ماہرین غذائیات افطار کے وقت بھی خود پر کنٹرول رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ افطار میں کولڈرنکس، جنک فوڈ اور کیفین پر مشتمل خوراک مثلاً چائے کافی کا استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے پیاس بڑھ جاتی ہے۔