ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آدھے لاہوری، آدھے بنگالی اریجیت کے لائیو کنسرٹ میں باپو کی ویڈیو کال؛ سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی

Arijit Singh LIVE CONSERT,
کیپشن:   اریجیت سنگھ کی پبلک میں بولی ہوئی ہر بات ہی سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہوتی ہے لیکن چندی گڑھ کنسرٹ مین باپو جی کی ویڈیو کال والی مضتصر ویڈیو کلپ نے تو مقبولیت کے آسمان کو چھو لیا۔ ان دو تصویروں کے کولاج میں ایک  اریجیت کے والد ہیں جو خود لاہور میں  پیدا ہوئے اور بچپن یہیں گزارا، وہ 1947 میں ہجرت کر کے مغربی بنگال گئے تھے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ساؤتھ ایشیا کے زندہ  لیجنڈ آڈھے لاہوری، آدھے بنگالی  پنجابی سِنگر ارجیت سنگھ نے لائیو کنسٹرک کے دوران باپو جی کی ویڈیو کال آتے ہی سب کچھ چھوڑ دیا اور باپو جی کی کال سننے میں لگ گئے۔ اریجیت سنگھ کی اس فرماں برداری نے ان کے مداحوں کے دلوں میں ان کی عزت مزید بڑھا ئی، محبت کچھ اور گہری کر دی اور ان کی اس سرگرمی کی ویڈیو سوشل پلیٹ فارمز پر آندھی طوفان کی طرح وائرل ہو گئی۔

چندی گڑھ پنجاب کے کنسرٹ مین ہوئے اس واقعہ کے متعلق رپورٹ کرتے انڈیا کی ایک نیوز آؤٹ لیٹ  میش ایبل انڈیا نے لکھا، " اریجیت اکثر انٹرنیٹ پر اپنی ہمبل (منکسر) شخصیت اور اپنے مداحوں کے لیے دوستانہ طبیعت کے ساتھ طوفان برپا کرتے ہیں۔ ہندوستان کے سب سے پیارے موسیقاروں میں سے ایک،  اکثر ان کی شائستہ فطرت کی  سب ہی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں چندی گڑھ میں اپنے لائیو کنسرٹ کے دوران اپنے مداحوں کو جھنجھوڑ کر چھوڑ دیا، جب انہیں لائیو پرفارمنس کے دوران اپنے والد کی طرف سے ویڈیو کال موصول ہوئی اور  انہوں نے اسے نطر انداز کرنے کی بجائے ریسیو کیا، گانا جاری رکھا، باپو جی کو اشارے سے سلام کیا اور پھر  باپو جی کا اپنے مداحوں سے تعارف بھی کر وا دیا، گاتے کاتے فون کا ڈسپلے آڈئینس کی طرف موڑا اور بولا، "میرے فادر ہیں!"۔

اریجیت کا یہ بے ساختہ منکسر اور سادگی سے بھرا رویہ، باپو جی کا احترام اور مداحوں کو حقیقی زندگی کے یاروں دوستوں کی طرح ٹریٹ کرنا فینز کو اس قدر بھایا کہ اریجیت کی اس  ویڈیو کال کی ویڈیو کلپ ان کے فیمس سونگز سے بھی کچھ زیادہ وائرل ہو گئی۔ 

اب سوشل میڈیا پر وائرل  ویڈیو میں  اریجیت فلم لاپتا لیڈیز کے اپنے گانے "سجنی رے" اپنے زندگی کی انرجی سے بھرے انداز سے  گاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس ہی  دوران اریجیت کو اپنے والد کی ویڈیو کال موصول ہوتی ہے۔ اسے نظر انداز کرنے کے بجائے، وہ گانا جاری رکھتے ہوئے فون اٹھا لیتا ہے۔ وہ کنسرٹ کے تمام حاضرین سے اپنے والد کا تعارف کرواتا ہے۔ اس نے اپنے فون کا ڈسپلے والا رخ فینز  کی طرف موڑ کر بتایا، "میرے والد ویڈیو کال پر ہیں۔"

اریجیت کے اس سادہ سے عمل  کو سوشل میڈیا نے طوفانی محبت کے ساتھ لیا ہے اور انٹرنیٹ پر اب ہر جگہ اسی کا چرچا ہے۔ جیسے ہی اس کی ویڈیوز یوٹیوب پر وائرل ہوئیں، نیٹیزین اس کی تعریف کرنے اور اس کی سادگی کی تعریف کرنے کے لیے پوسٹ کے کمنٹ سیکشن میں پہنچ گئے۔ بہت سے لوگوں نے نشاندہی کی کہ کوئی کتنا ہی مشہور شخصیت کیوں نہ بن جائے، ان کے والد کی کال کو نظر انداز کرنا بہت مشکل ہے۔

ایک نے لکھا، "یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں، آپ کتنے مصروف ہیں، آپ اپنے والد کی کال کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اریجیت سر۔ تم ایک نگینہ (جیم)ہو۔"

ایک اور نے لکھا، "اوہ اتنا قابل فخر لمحہ۔"

ایک اور نے کہا، "اس کی آنکھوں کے سامنے کھولیں- چاہے یہ صرف ایک ویڈیو کال کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ دنیا اس کے بیٹے کے نام کا نعرہ لگا رہی ہے، ان کی آوازیں یک زبان ہو رہی ہیں۔ کیا آپ اس کے والد کی آنکھوں میں فخر کی تصویر کر سکتے ہیں؟ جس طرح سے اس کا دل سوز رہا ہوگا، جذبات سے مغلوب ہو کر الفاظ کے لیے بہت گہرے ہیں؟ یادیں ضرور پیچھے ہٹ رہی ہوں گی - اس کے چھوٹے سے چھوٹے ہاتھ پکڑ کر، اسے اپنا پہلا سبق سکھانا، ناکامیوں کے بعد اس کے آنسو پونچھنا، اور سرگوشیاں کرنا، 'ایک دن، دنیا تمہارا نام جان لے گی'۔

ایک گلوبل سینسیشن ہونے کے باوجود اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک چارٹ ٹاپنگ ہٹس پیش کرنے کے باوجود، اریجیت سنگھ ہمیشہ ہی عاجز  اور منکسر رہے اور اپنی پنجابی رہنتل کے ساتھ  جڑے رہے۔

شہرت، دولت اور متنوع نوعیت کی مصروفیتوں میں الجھ کر انہوں نے اپنی جڑیں نہیں چھوڑیں۔ 

 ایک رئیلٹی شو میں مقابلہ کرنے سے لے کر بالی ووڈ کے موسٹ وانٹِڈ  پلے بیک سنگرز میں سے ایک بننے تک، اس نے یقیناً ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ تاہم، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ جتنی بھی کامیابیاں حاصل کرتا ہے، وہ اپنے آبائی شہر  جیا گنج مرید آباد،  مغربی بنگال میں، شہروں کی رنگینیوں سے دور، ایک سادہ اور پرسکون زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے۔

اریجیت سنگھ پیدا تو مغربی بنگال کے قصبے میں ایک بنگالی ماں کے ہاں  ہوئے لیکن ان  کے ادب آداب لہوریوں والے ہی ہیں کیونکہ اریجیت کے والد لاہور سے ہی ہجرت کر کے مغربی بنگال گئے تھے۔