ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان نے داعش کی کمر توڑدی، مرکزی فتنہ گر دہشتگرد گرفتار

Pakistan Army, DAESH Khurasan, ISIS, Terrorist net work, City42, Intelegence
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آج پاکستان میں داعش کی کمر توڑ دی۔ داعش کا اہم لیڈر زندہ ہاتھ آ گیا۔ اس کامیابی سے داعش کے پاکستان میں نیٹ ورک کو ادھیڑ ڈالنے کی کامیابی حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے آج پاکستان میں زیر زمین کام کرنے والے خوارجی گروہ  داعش خراسان کو بڑا دھچکا لگایا ہے۔

داعش کے ترجمان بدنام دہشت گرد  اور خارجی فتنے کے رہنما، سلطان عزیز اعظّام  کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔

یہ فتنہ گر دہشتگرد داعش کے نام سے کام کرنے والے خارجی گروہ کا "ترجمان" بن کر پاکستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں ملوث ہے۔ اس نے اپنے ہی نام سے ایک منظم فسادی پروپیگنڈا نیٹ ورک بنا رکھا ہے جس کو داعش کے  آفیشل میڈیا وِنگ کا درجہ حاصل ہے، اس پروپیگڈا سیل کا سوشل میڈیا میں مشہور نام  الاعظام فاؤنڈیشن ہے۔ اس نیٹ ورک کو درپردہ بھارتی ایجنسیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس پروپیگنڈا مشین کے بانی دہشت گرد خارجی سلطان عزیز اعظّام کو آج پاکستان کی مایہِ ناز  انٹیلی جنس ایجنسی نے جوانوں نے گرفتار کر لیا۔ 

الاعظائم فاؤنڈیشن داعش خراسان کی بھرتی اور پراپیگنڈا سرگرمیوں کا مرکزی ھب hub ہے۔

خارجی فتنہ گر عزیز اعظام کی گرفتاری کے بعد  اس فسادی دہشتگرد گروہ کی سوشل میڈیا  میں پروپیگنڈا سرگرمیاں بھی معطل ہو گئیں

حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام نے داعش خراسان کے کئی ہائی پروفائل دہشتگردوں کی  گرفتاریاں کی ہیں۔


ہونے والی گرفتاریوں میں تنظیم کے ترجمان سلطان عزیز اعظّام کی 16 مئی 2025 کو کی گئی گرفتاری بھی شامل ہے۔ 


یہ بات اقوامِ متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ میں سامنے آئی

 
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کاروائ سے داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے کوعالمی سطح پر کمزور کر دیا گیا ہے

کئی منصوبہ بند حملے ناکام بنا دیے گئے جبکہ تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آئی ہے 


اہم کمانڈرز و نظریاتی رہنماؤں کو نیوٹرلائز کر دیا گیا ہے۔

مئی 2025 میں سلطان عزیز اعظّام اور سینئر رہنما ابو یاسر الترکی کی گرفتاری جیسے اقدامات کے نتیجے میں تنظیم کی آپریشنل طاقت میں نمایاں کمی آئی ہے۔


ان کارروائیوں کے باعث “وائس آف خراسان” جیسے اہم پراپیگنڈا پلیٹ فارمز بھی معطل ہو گئے ہیں۔