ویب ڈیسک : کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کوئی لگ بھگ نابینا شخص 150 میل تک گاڑی ڈرائیو کرکے لے جائے اور حادثے کا شکار نہ ہو؟
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر انگلینڈ میں واقعی ایسا کیس سامنے آیا ہے۔
29 جون 2026 کو علی الصبح پولیس آفیسرز نے ایم 6 موٹروے پر کارلایل کے قریب ایک گاڑی کو دیکھا جو عجیب انداز سے ایک سے دوسری لین میں لہرا رہی تھی۔
انہیں لگا کہ یہ کوئی لاپروا ڈرائیور ہے مگر جب انہوں نے اسے روکا تو انہیں دھچکا لگا۔
ڈرائیور نہ صرف نشے میں دھت تھا بلکہ اس کے پاس ڈرائیور لائسنس بھی نہیں تھا جبکہ وہ لگ بھگ نابینا تھا۔
اس کیس کی گزشتہ دنوں عدالتی سماعت کے دوران 50 سالہ انتھونی ہال نامی شخص نے تسلیم کیا کہ اس نے ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر نشے کی حالت میں اپنی شریک حیات کی گاڑی کو اس کی اجازت کے بغیر چلایا تھا۔
ان کے وکیل نے بتایا کہ انتھونی ہال نے ایسا شریک حیات سے جھگڑے اور مالی مشکلات کے باعث کیا۔
مگر وکیل یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہے کہ کیسے ایک نابینا شخص کسی گاڑی کو موٹروے پر چلانے میں کامیاب رہا۔
انتھونی ہال نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے شریک حیات سے جھگڑے کے بعد نشے کی حالت میں اسکاٹ لینڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان کے پاس کبھی ڈرائیور لائسنس نہیں تھا مگر ماضی میں جب ان کی بینائی برقرار تھی تو وہ گاڑی ڈرائیو کرنا جانتے تھے۔
ان کی بینائی 2 سال قبل لگ بھگ مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی مگر اس کے باوجود انہوں نے اسکاٹ لینڈ جانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا۔
ایک پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایم 6 موٹروے پر ڈرائیونگ کے دوران انتھونی ہال ایک گیس اسٹیشن پر گاڑی کو روک کر ایندھن بھروایا جبکہ وہاں کے عملے میں سے کسی نے بھی رپورٹ نہیں کیا کہ ڈرائیور نابینا ہے۔
تو وہ کیسے 150 میل تک ڈرائیو کرنے میں کامیاب رہے، وہ بھی ایک مصروف ہائی وے پر؟
انتھونی ہال کے مطابق وہ اب بھی کسی حد تک مدھم روشنیوں کو دیکھ سکتے ہیں تو وہ ایک بڑے ٹرک کے پیچھے گاڑی چلاتے رہے اور اس کی ٹیل لائٹس کا پیچھا کرتے رہے۔
مگر انہیں گاڑی کو مستحکم رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوا تھا اور اسی وجہ سے پولیس نے انہیں روکا تھا۔
مگر پھر بھی کرشماتی طور پر وہ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئے، البتہ 36 مہینوں کی قید کی سزا کا سامنا ضرور کریں گے جن میں سے 18 ماہ کی قید معطل ہوگی۔