میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بڑا مالی جھٹکا لگ گیا

میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بڑا مالی جھٹکا لگ گیا


(راﺅ دلشاد) میٹروپولیٹن کارپوریشن کو مالی جھٹکا لگ گیا، لائسنس فیسوں کی مد میں صرف2 کروڑ ہی اکٹھے ہو سکے۔میٹروپولیٹن آفیسر فنانس یوسف سندھو نے ٹیکس انسپکٹرزسے ایک ایک پائی کا حساب مانگ لیا۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے 105 ٹیکس انسپکٹرز کو تین روز میں 274 یونین کونسلز سے لائسنس فیسوں کی مد میں 8 کروڑ 70 لاکھ جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ 9 زونز تاحال دو کروڑ ٹیکس ہی اکٹھا کرسکے، پہلی سہ ماہی میں ریونیو ٹارگٹ پورا نہ کرنے والے ٹیکس انسپکٹرزکو شو کاز نوٹس دیا جائے گا۔

 میٹروپولیٹن آفیسر فنانس یوسف سندھو نے ٹیکس انسپکٹرزسے ایک ایک پائی کا حساب مانگ لیا۔ لائسنس ٹیکسیشن فیس کی مد میں عزیز بھٹی زون کی یونین کونسلز کے ذمہ 70 لاکھ 39 ہزار، شالامار زون کی یونین کونسلز کے ذمہ 50 لاکھ 49 ہزار جبکہ واہگہ زون کی 25 یونین کونسلز سے 80 لاکھ 58 ہزار ریونیو جمع کر نا تھا۔

میٹروپولیٹن آفیسر فنانس کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق گلبرگ زون کی 25 یونین کونسلزکے ٹیکس انسپکٹرز کو 80 لاکھ 31 ہزار، علامہ اقبال زون کی 41 یونین کونسلز سے ایک کروڑ 66 لاکھ 60 ہزار اکٹھے کرنا ہیں۔، راوی زون کی یونین کونسلز کے ذمہ ایک کروڑ 60 لاکھ 64 ہزار اور داتا گنج بخش زون کی یونین کونسلز سے ایک کروڑ 78 لاکھ کا ہدف مقررکیا گیا تھا۔

سمن آباد زون کی یونین کونسلز سے 75 لاکھ 26 ہزار اور نشتر زون کی یونین کونسلز کے ذمہ ایک کروڑ 50 لاکھ 62 ہزار کا ہدف مقرر کیا گیا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا۔