پاکستان کے عدالتی نظام میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتے بلکہ انصاف، قانون اور شہری حقوق کے بارے میں ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 41 سال پرانے دہرے قتل کے مقدمے میں ملزم تاج دین کو بری کرنے کا حالیہ فیصلہ بھی انہی اہم فیصلوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
یہ مقدمہ 1985 میں درج ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں ملزم تاج دین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے تفصیلی قانونی جائزے کے بعد اس سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ اصول اجاگر کیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں سزا صرف اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب جرم شک سے بالاتر ہو کر ثابت کیا جائے۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جن قانونی نکات پر روشنی ڈالی، وہ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ناقابلِ تردید اور قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کرے۔ اگر شواہد میں معقول شک پیدا ہو جائے تو قانون ملزم کو اس شک کا فائدہ دینے کا تقاضا کرتا ہے۔
فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ مقدمے کے میڈیکل افسر کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ فوجداری مقدمات میں میڈیکل شہادت اکثر واقعاتی شواہد کی تصدیق اور حقیقت تک پہنچنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ عدالت نے درست طور پر نشاندہی کی کہ ایسے اہم گواہ کی عدم موجودگی استغاثہ کے مقدمے کو کمزور بناتی ہے۔
اسی طرح عینی گواہوں کے بیانات میں تضادات، ان کی موقع پر موجودگی سے متعلق شکوک اور پولیس تفتیش میں سامنے آنے والی خامیوں کو بھی عدالت نے نظرانداز نہیں کیا۔ یہ وہ پہلو ہیں جنہیں بعض اوقات معمولی سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہی عناصر کسی فوجداری مقدمے کی بنیاد کو مضبوط یا کمزور بناتے ہیں۔
جسٹس محمد امجد رفیق کے فیصلے کی اہمیت اس بات میں بھی مضمر ہے کہ انہوں نے صرف مقدمے کے نتائج کو نہیں دیکھا بلکہ شواہد کے معیار، گواہی کی ساکھ اور قانونی اصولوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ایک اچھے جج کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ جذبات، قیاس آرائیوں اور عوامی تاثر سے بالاتر ہو کر صرف قانون اور ریکارڈ پر موجود مواد کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ اس مقدمے میں بھی یہی طرزِ فکر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
پاکستانی عدلیہ میں ایسے فیصلے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب عدالتیں یہ واضح پیغام دیتی ہیں کہ ناقص تفتیش، کمزور شہادت اور متضاد بیانات کی بنیاد پر کسی شخص کی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی تو اس سے انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ تفتیشی اداروں اور استغاثہ کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ مقدمات کی تیاری میں پیشہ ورانہ معیار اور قانونی تقاضوں کو ہر صورت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگرچہ مقدمہ 41 سال پرانا تھا، لیکن عدالت نے صرف وقت گزر جانے کو بنیاد نہیں بنایا بلکہ شواہد کی قانونی حیثیت کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ یہی عدالتی غیر جانبداری اور قانون پسندی کسی بھی مہذب معاشرے کے انصاف کے نظام کی بنیاد ہوتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ دراصل اس اصول کی توثیق ہے کہ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ بے گناہ کو غلط سزا سے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ فوجداری قانون میں "فائدۂ شک" کا اصول اسی فلسفے کا مظہر ہے کہ اگر ایک معقول شک موجود ہو تو عدالت سزا دینے کے بجائے آزادی کو ترجیح دے گی۔
جسٹس محمد امجد رفیق کا یہ فیصلہ آئندہ برسوں میں فوجداری مقدمات میں شواہد کے معیار، گواہوں کی ساکھ اور فائدۂ شک کے اصول سے متعلق ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ قانون کی اصل طاقت انصاف، غیر جانبداری اور شواہد کے درست تجزیے میں پوشیدہ ہے، اور جب عدالتیں ان اصولوں پر کاربند رہتی ہیں تو انصاف کی روشنی دیر سے سہی مگر ضرور پہنچتی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App