ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ کا فرمانِ امروز؛ جنگ بندی نہیں، ہتھیار ڈالنا، نیوکلئیر پروگرام کی مکمل بندش

 City42, Iran Israel conflict, Iran war, Trump on Khamina ei,
کیپشن: کل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کی اسیسینیشن کی طرف جا سکتے ہیں، آج یہ ہی کلام ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، ٹرمپ نے کہا کہ وہ خامنہ ای کو کم از کم ابھی مارنا نہیں چاہتے، ٹرمپ نے جنگ بندی کی بجائے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور نیوکلئیر پروگرام پر ""مذاکرات مین واپس آن کی بجائے، نیوکلئیر پروگرام مکمل بند کرنے کا فرمان جاری کیا۔ ے

سٹی42:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی  کہا ہے کہ  امریکہ جانتا ہے کہ ایران کے خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس سے اچانک نکل گئے تھے، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت آنے کے تناظر میں ٹرمپ کے جی سیون اجلاس سے  جلدی واپس چلے جانے کو خاص نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔  کل سے ہی صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے کئی بار بات کر چکے ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ   نے سیچویشن روم میں مشیروں سے ملاقات کا منصوبہ بنایا تھا، ایسا لگتا ہے کہ وہ بتدریج  ایران کے ساتھ  اب تک اسرائیل کے تنازعہ میں "مزید براہ راست امریکی کردار"  کے لیے  اپنا پبلک کیس بنا رہے ہیں۔

امریکی نیوز ایجنسی نے نوٹ کیا کہ صدر ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی اس وقت آئی ہے جب امریکہ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ مزید بڑھنے کی صورت میں جوابی کارروائی کے لیے خطے میں جنگی جہازوں اور فوجی طیاروں کو ڈپلائی کر دیا ہے۔

ٹرمپ کا فرمانِ امروز؛ جنگ بندی نہیں، ہتھیار ڈالنا، نیوکلئیر پروگرام کی مکمل بندش

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تنازعے میں "جنگ بندی سے بہتر" کچھ تلاش کر رہے ہیں۔ اپنے مخصوص طیارے ایئر فورس ون میں ایک رپورٹر کے اس سوال پر  کہ "وہ خاص طور پر کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں"، ٹرمپ نے جواب دیا: "ایک خاتمہ، ایک حقیقی خاتمہ، جنگ بندی نہیں، ایک خاتمہ۔"


 ٹرمپ ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے جو چاہتے ہین وہ تو ان کے حالیہ بیان کے بعد بھی واضح نہیں تاہم کل پیر کے روز ان کے جی سیون اجلاس سے جلدی واپس جانے کے بعد عمومی پریسیپشن وہ تھی جس کا  فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اظہار کیا، میکرون نے کہا تھا،  یہ "مکمل طور پر مثبت" ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک دن قبل گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس سے نکل جائیں گے، کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

آج واشنگٹن مین ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے منگل کی ملاقاتوں کے شیڈول ہوئے سلسلے کو چھوڑنے کا  فیصلہ کیا ہے جس میں یوکرین میں جاری جنگ اور عالمی تجارتی مسائل پر بات کی جانا تھی۔

ٹرمپ فی الحال خامنہ ای کا قتل نہیں چاہتے

امریکہ کی لیڈنگ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نکے حوالے سے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور ایران تنازع کے دوران کہاں چھپے ہوئے ہیں لیکن وہ "ابھی کے لیے" ان کی ہلاکت نہیں چاہتے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں زور دیا کہ ایران "غیر مشروط ہتھیار ڈال دے"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ہم بالکل جانتے ہیں کہ نام نہاد 'سپریم لیڈر' کہاں چھپا ہوا ہے۔" "وہ ایک آسان ہدف ہے، لیکن وہ وہاں محفوظ ہے - "ہم اسے باہر نہیں مار یں گے! ، کم از کم ابھی نہیں۔ لیکن ہم نہیں چاہتے کہ شہریوں یا امریکی فوجیوں پر میزائل برسائے جائیں"۔ "ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔"

تہران کے بارے میں ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے طاقت کے اظہار پر مبنی تبصرے، کل پیر کے روز  تہران کے 9.5 ملین باشندوں کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے کا مشورہ دینے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ کل ٹرمپ نے یہ ریمارکس اپنے سوشل پلیٹ فارم پر ہی پوسٹ کئے تھے کہ تہران کے باشندوں کو شہر چھوڑ جانا چاہئے۔ اس بیان کی نوعیت ایسی تھی کہ اس سے تہران سمیت دنیا بھر میں تشویش پھیل گئی تھی جیسے تہران مین بہت جلد کچھ خوفناک ہونے والا ہے، لیکن گزشتہ رات کچھ نہیں ہوا۔

کل ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ فوری بات چیت کے لیے واشنگٹن واپس آنے کے لیے بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے لیے اپنا دورہ مختصر کر دیا تھا۔ اس سے بھی قیاس آرائیوں کو جگہ ملی تھی۔ 

ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر اسرائیل کے حملوں کا اثر کافی نہیں

 اسرائیل نے پانچ دن کے  ہمہ گیر ہوائی اور میزائل حملوں سے ایران کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہ اب تہران کے جوہری پروگرام کو مستقل دھچکا لگا سکتا ہے – خاص طور پر اگر اسے واشنگٹن میں ریپبلکن صدر  سے "تھوڑی زیادہ مدد" مل جائے۔ یہ مدد ممکنہ طور پر زمین کی گہرائی میں تنصیبات کو ڈیمیج کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خٓص ہتھیاروں سے متعلق ہو سکتی ہے جن کے بارے مین عام تاثر یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی رسائی سے باہر ہیں اور ان کے بغیر اسرائیل نہ نتنز کی زیر زمین تنصیبات کا کچھ بگاڑ سکا اور نہ فردو کی پہاڑ کے نیچے موجود تنصیبات کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ اس ہی حوالے سے ایران نے اپنی خاص تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ دھمکی  دہرائی ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں اسرائیل کی مدد کرنے کے لئے آیا تو ایران  امریکہ کے مفادات پر بھی حملے کرے گا۔

Caption امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو کی یہ تصویر زیادہ پرانی نہیں، ان دونوں کی  آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کرنے کی خواہش اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

لیکن امریکی مداخلت کو مزید گہرا کرنا، شاید اسرائیلیوں کو بنکر بسٹر  بم فراہم کر کے یا دیگر براہ راست امریکی فوجی مدد ک فراہم کرنا، ٹرمپ کے لیے اور امریکہ کے لئے بھی بہت بڑا سیاسی خطرہ ہے۔


ٹرمپ، جب وہ واشنگٹن واپس جا رہے تھے، انہوں نے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی پر ایرانی رہنماؤں سے مایوسی کا اظہار کیا۔  انہوں نے کہا کہ اب وہ تنازع کے "حقیقی انجام" اور تہران کے جوہری پروگرام کے "مکمل بند ہونے" کی تلاش میں ہیں۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر نامہ نگاروں کو بتایا، "انہیں معاہدہ کرنا چاہیے تھا۔ میں نے ان سے کہا، 'ڈیل کرو،'۔ "تو میں نہیں جانتا۔ میں بات چیت کرنے کے موڈ میں زیادہ نہیں ہوں۔"

ایران نے اصرار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ تہران فعال طور پر بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔