ویب ڈیسک: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جاری مالیاتی اعداد و شمار میں انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1.81 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جو معاشی استحکام کی جانب مثبت پیش رفت ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2025 میں جاری کھاتوں کا خسارہ 10 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔ ماہِ مئی کے دوران برآمدات کا حجم 2.43 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 5.47 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 3.04 ارب ڈالر رہا۔
مزید اعداد و شمار کے مطابق، مئی میں تجارت، خدمات اور آمدن کا مجموعی خسارہ 3.99 ارب ڈالر رہا، جبکہ ورکرز کی ترسیلات زر 3.17 ارب ڈالر رہی جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوئیں۔
مرکزی بینک کے مطابق مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں پاکستان نے دنیا سے 54 ارب ڈالر کا سامان درآمد کیا جبکہ 29 ارب ڈالر کا سامان برآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 24 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا۔
اس عرصے میں تجارت، خدمات اور آمدن کا مجموعی خسارہ 34.95 ارب ڈالر رہا، جبکہ ورکرز ترسیلات 34.89 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو تقریباً خسارے کے برابر ہیں۔