ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کاروبار میں آسانی کے لیے اصلاحات میں تیزی لائی جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت

کاروبار میں آسانی کے لیے اصلاحات میں تیزی لائی جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اویس: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) سے متعلق اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومتی اصلاحات، آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 پر عمل درآمد مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کی افادیت اور مؤثر نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی سے متعلق تمام پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کی جامع رپورٹ جلد پیش کی جائے۔

شہباز شریف نے وزارتِ قانون و انصاف، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC)، سرمایہ کاری بورڈ، وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی قانون سازی اور پالیسی سازی میں کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے مختلف ضوابط، کاغذی کارروائی اور منظوریوں میں کمی کے حوالے سے 558 اصلاحات مکمل کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 71 پالیسی اقدامات پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہے، جبکہ مزید 272 اقدامات پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق ان اصلاحات کو سات مراحل میں مختلف شعبوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ان اصلاحات سے کاروباری برادری کو ضوابط کی تکمیل پر آنے والے اخراجات میں 468 ارب 70 کروڑ روپے تک کی بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری اور پیچیدہ ضوابط کے خاتمے سے برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر عمل درآمد اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو اہم معیار بنایا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیرِ وزیراعظم محمد علی، معاونِ خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت بین الاقوامی ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔