عرفان ملک:گزشتہ چند برسوں کے دوران 50 ہزار سے زائد شہری پولیس سے متعلق شکایات اور مختلف مسائل لے کر پولیس افسران اور کھلی کچہریوں سے رجوع کرتے رہے۔ ان میں 20 ہزار سے زائد درخواستیں ایسے معاملات پر مشتمل تھیں جو سول نوعیت کے تھے۔
لاہور پولیس کے مطابق قانونی آگاہی نہ ہونے کے باعث شہری جائیداد، لین دین اور دیگر سول تنازعات کے حل کے لیے تھانوں کا رخ کرتے رہے، حالانکہ ایسے معاملات کے لیے متعلقہ سول فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ درست قانونی پلیٹ فارم تک رسائی نہ ہونے کے باعث متعدد شہری بروقت ریلیف حاصل نہیں کر سکے۔
اس صورتحال کے پیش نظر لاہور پولیس نے سول مقدمات میں شہریوں کی رہنمائی کے لیے وکلا کے پینل کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور وکلا کے درمیان مفت قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے۔
منصوبے کے تحت پولیس کے پاس آنے والے سول نوعیت کے مقدمات وکلا کے پینل کو بھجوائے جائیں گے، جہاں شہریوں کو مفت قانونی مشاورت اور ضرورت پڑنے پر قانونی نمائندگی بھی فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کے بعد شہریوں کو سول معاملات کے حل کے لیے غیر ضروری طور پر تھانوں کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔
لاہور پولیس کے مطابق اس نظام کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور شہریوں سے فیڈ بیک بھی لیا جائے گا تاکہ قانونی معاونت کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو درست قانونی پلیٹ فارم تک بروقت رسائی فراہم کرنا ہے۔