محسن جعفری: مون سون کی طوفانی بارش نے چکوال کے علاقے موضع بکھاری کلاں میں نجی ڈیم شدید بارشوں کے باعث ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیر آب گئے، سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، شدید بارشوں کے باعث سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
چکوال میں سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں فوج سمیت تمام انتظامیہ حصہ لے رہی ہے، شہریوں کے باحفاظت انخلا تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔
سیلابی پانی کے باعث تکیہ شاہ مراد کا لنک روڈ بھی متاثر ہوا ہے، جس سے علاقے کا زمینی رابطہ محدود ہو گیا ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں سات افراد پھنس گئے تھے، جن میں سے پانچ افراد کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ باقی دو افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ریسکیو، مقامی انتظامیہ اور دیگر ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ پانی کی شدت اور مزید بارشوں کے خدشے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق 50 سے زائد امدادی کارکن چھ ریسکیو بوٹس کے ساتھ ڈھوک شاہ عارف، سوہاوہ، ڈھوک بدر، رسول پور، چک محمدہ، بھمپر ولیج میں رسیکیو آپریشن کر رہے ہیں۔ جہلم فلیش فلڈ سے اب تک 57 لوگوں کو بحفاظت ریسکیو کیا جا چکا ہے جبکہ میانولی، راولپنڈی، چکوال، اٹک، ڈی جی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور لیہ میں بھی ریسکیو ٹیمیں آپریشن میں مصروف ہیں۔پنجاب بھر میں 800 سے زائد ریسکیو بوٹس 15000 سے زائد ریسکیورز مون سون اور فلڈ اپریشن کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔
جہلم کے ڈھوک بدر میں پھنسنے والے 40 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، فوج نے فضائی مدد فراہم کی، رجروڑ نکہ خاص میں بھی درجنوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، نالہ پنہاں بپھر چکا ہے، شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔
چکوال میں موسلادھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور پانی کئی سرکاری عمارتوں اور گھروں میں داخل ہو گیا، مکان کی چھت گرنے سے بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے باعث شہر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
کٹاس راج مندر پانی میں ڈوب گیا
چوآسیدن شاہ میں تاریخی کٹاس راج مندر پانی میں ڈوب گیا۔دھرابی کے قریب چھوٹا ڈیم میں پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے سپل وے ٹوٹ گیا، چھوٹا ڈیم کا پانی قریبی زرعی علاقوں میں داخل ہو گیا، کئی دیہات زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق چکوال میں ریکارڈ بارش کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہوئی، چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ہوئی، کلر کہار، وہالی زیر میں 325 اور چو آسیدن شاہ میں 310 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے سبب حادثات
چکوال کے نواحی علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گر نے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، واقعہ میں جاں بحق شخص کی اہلیہ اور ایک بیٹی زخمی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر پاک فوج کی بھی مدد لی جائے گی۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سب سے زیادہ بارش چکوال میں ریکارڈ کی گئی۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں کل رات سے 200 ملی میٹر کی ریکارڈ بارش ہوئی ہے، نالہ لئی میں پانی کی سطح 20 فٹ سے بڑھ گئی ہے۔
چکوال میں ڈھوک مستانی، پادشہان اور دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے جس کی وجہ سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا اور شہریوں کی جانب سے نقل مکانی کا عمل جاری ہے، ریسکیو حکام کے مطابق عملہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ نے کہا ہے کہ کلاؤڈ بلاسٹ کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، ضلع بھر میں 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سول انتطامیہ شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سپیشل فورسز کا تعاون ناگزیر ہے۔
اس سال کے دوران آج تک پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے سے 28 افراد جاں بحق اور 90 زخمی ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 12 افراد کا تعلق لاہور ضلع، 8 کا فیصل آباد، 3 کا شیخوپورہ اور 2 کا تعلق اوکاڑہ سے ہے۔
نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، نالہ لئی کے اطراف میں خطرے کے سائرن بجا دیئے گئے ہیں جبکہ نشیبی علاقوں میں گلیوں اور سڑکوں پر بھی پانی جمع ہے، تیز بارش کے باعث ریسکیو، واسا، سول ڈیفنس سمیت تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے چھٹی کا نوٹیفکیشن کر دیا، عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی، کئی گاڑیاں ریلے میں بہہ گئی ہیں، چکری روڈ، لادیاں گاؤں، ریس کلب زیر آب گئے، کشتیاں پہنچا دی گئیں، ریسکیو آپریشن میں 20 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔نالہ لئی کے اطراف میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔
پنڈی بھٹیاں میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، متعدد گاؤں اور فصلیں سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔پنڈی بھٹیاں میں پانی گھروں اور دیگر املاک داخل ہو ا۔
فوج سے مدد مانگ لی
ایم ڈی واسا نے ٹرپل ون بریگیڈ سے رابطہ کر لیا، ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، راولپنڈی کے حساس نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا ہے جہاں واسا کی ٹیمیں ہائی الرٹ پر موجود ہیں، بارش کے مکمل رکنے پر پانی نکالنے کا آپریشن شروع کیا جائے گا۔
نالہ لئی کے اطراف بالخصوص گوالمنڈی، نیو کٹاریاں اور پیرودھائی کے علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، گوالمنڈی میں سطح آب 15 فٹ پر پہنچنے کی صورت میں الرٹ جاری کیا جائے گا۔