ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میو ہسپتال:ایک ماہ کی تحقیقات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کارڈیک سٹنٹس اور بیلونز چوری کے الزام سے بری

میو ہسپتال:ایک ماہ کی تحقیقات کے بعد ینگ ڈاکٹرز کارڈیک سٹنٹس اور بیلونز چوری کے الزام سے بری
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

زاہد چودھری: میو ہسپتال میں کروڑوں روپے مالیت کے کارڈیک سٹنٹس اور کارڈیک بیلونز چوری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والی انکوائری میں ینگ ڈاکٹرز کے خلاف چوری کے الزامات ثابت نہ ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق ینگ ڈاکٹر احمد کمال اور ڈاکٹر راؤ اویس اختر پر کارڈیک سٹنٹس اور بیلونز چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا، جس پر میو ہسپتال کے ایم ایس نے دونوں ڈاکٹرز کے خلاف انکوائری شروع کی۔

انکوائری کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دستیاب شواہد کا جائزہ لیا، تاہم ینگ ڈاکٹرز کے خلاف چوری کے الزامات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں مل سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ینگ ڈاکٹرز کی گاڑیوں میں کوئی کارٹن رکھتے ہوئے نظر نہیں آیا۔ فوٹیج سے کارڈیک سٹنٹس، کارڈیک بیلونز یا کسی اور سامان کی منتقلی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔

انکوائری رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیے بغیر ہی ینگ ڈاکٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔

اے ایم ایس کے بیان کے مطابق انہیں ایم ایس آفس سے ایک خط موصول ہوا، جس میں ینگ ڈاکٹرز پر الزامات عائد کیے گئے اور انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

دوسری جانب اے ایم ایس سکیورٹی نے بیان میں کہا کہ انہیں کارڈیک سٹنٹس اور بیلونز کی چوری سے متعلق کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ذاتی طور پر انکوائری شروع کی تھی۔

انکوائری کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو مزید تحقیقات کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوانے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ معاملے کے حوالے سے مزید شواہد سامنے لائے جاسکیں۔

ایک ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ چیف ایگزیکٹو آفیسر کو بھجوا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر ینگ ڈاکٹرز کے خلاف کارڈیک سٹنٹس اور بیلونز چوری کا الزام ثابت نہیں ہوسکا۔